تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النحل (16) — آیت 34

فَاَصَابَہُمۡ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوۡا وَ حَاقَ بِہِمۡ مَّا کَانُوۡا بِہٖ یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ ﴿٪۳۴﴾
پس ان کے پاس اس کے برے نتائج آپہنچے جو انھوں نے کیا اور انھیں اس چیز نے گھیر لیا جسے وہ مذاق کیا کرتے تھے۔ En
تو ان کو ان کے اعمال کے برے بدلے ملے اور جس چیز کے ساتھ وہ ٹھٹھے کیا کرتے تھے اس نے ان کو (ہر طرف سے) گھیر لیا
En
پس ان کے برے اعمال کے نتیجے انہیں مل گئے اور جس کی ہنسی اڑاتے تھے اس نے ان کو گھیر لیا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ فَاَصَابَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا پھر پڑے ان کے سر ان کے برے کام یعنی ان کے اعمال بد کے اثرات اور ان کی سزا ﴿ وَحَاقَ بِهِمْ اور الٹ پڑا ان پر یعنی ان پر وہ عذاب نازل ہوا ﴿ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ جس کے ساتھ وہ ٹھٹھا کرتے تھے کیونکہ ان کے رسولوں نے جب انھیں عذاب سے ڈرایا تو انھوں نے ان سے استہزا کیا اورجو خبر انھوں نے دی اس کا تمسخر اڑایا آخر ان پر وہ عذاب ٹوٹ پڑا جس کا وہ تمسخر اڑایا کرتے تھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فأصابهم سيِّئاتُ ما عملوا}؛ أي: عقوبات أعمالهم وآثارها، {وحاق بهم}؛ أي: نزل {ما كانوا به يستهزئون}: فإنهم كانوا إذا أخبرتهم رسلُهم بالعذاب؛ استهزؤوا به، وسخروا ممَّن أخبر به، فحلَّ بهم ذلك الأمر الذي سخروا منه.