تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ فَاَصَابَهُمْسَیِّاٰتُمَاعَمِلُوْا ﴾”پھر پڑے ان کے سر ان کے برے کام“ یعنی ان کے اعمال بد کے اثرات اور ان کی سزا ﴿ وَحَاقَبِهِمْ ﴾”اور الٹ پڑا ان پر“ یعنی ان پر وہ عذاب نازل ہوا ﴿ مَّاكَانُوْابِهٖیَسْتَهْزِءُوْنَ۠ ﴾”جس کے ساتھ وہ ٹھٹھا کرتے تھے“ کیونکہ ان کے رسولوں نے جب انھیں عذاب سے ڈرایا تو انھوں نے ان سے استہزا کیا اورجو خبر انھوں نے دی اس کا تمسخر اڑایا آخر ان پر وہ عذاب ٹوٹ پڑا جس کا وہ تمسخر اڑایا کرتے تھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فأصابهم سيِّئاتُ ما عملوا}؛ أي: عقوبات أعمالهم وآثارها، {وحاق بهم}؛ أي: نزل {ما كانوا به يستهزئون}: فإنهم كانوا إذا أخبرتهم رسلُهم بالعذاب؛ استهزؤوا به، وسخروا ممَّن أخبر به، فحلَّ بهم ذلك الأمر الذي سخروا منه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔