(آیت34) ➊ {فَاَصَابَهُمْسَيِّاٰتُ …: ”سَيِّاٰتُ“ } کا مضاف محذوف ہے، یعنی {”عَوَاقِبُ“} اس لیے {”سَيِّاٰتُمَاعَمِلُوْا“} کا ترجمہ کیا ہے ”اس کے برے نتائج نے جو انھوں نے کیا۔“ ➋ {وَحَاقَبِهِمْ: ”حَاقَيَحِيْقُحَيْقًا“} بروزن {”بَاعَيَبِيْعُبَيْعًا“} بمعنی احاطہ کیا، گھیر لیا۔ اس کا استعمال برے گھیراؤ ہی کے لیے ہوتا ہے۔ «{ مَاكَانُوْابِهٖيَسْتَهْزِءُوْنَ }»”اس چیز نے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے“ ظاہر ہے کہ وہ رسولوں کی رسالت کا، اپنے دوبارہ زندہ ہونے، حساب کتاب ہونے اور عذاب میں گرفتار ہونے کا مذاق اڑایا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ وہ عذاب جلدی لاؤ جس کی دھمکیاں تم ہمیں دیتے ہو۔ بتائیے دشمن سے جلد از جلد عذاب کا مطالبہ اس عذاب کا مذاق اڑانا نہیں تو کیا ہے۔ الغرض! اسی عذاب نے اور اللہ کے حضور پیش ہونے کی مشکل گھڑی نے انھیں چاروں طرف سے گھیر لیا، جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
34۔ 1 یعنی جب رسول ان سے کہتے کہ اگر تم ایمان نہیں لاؤ گے تو اللہ کا عذاب آجائے گا۔ تو یہ استہزا کے طور پر کہتے کہ جا اپنے اللہ سے کہہ وہ عذاب بھیج کر ہمیں تباہ کر دے۔ چناچہ اس عذاب نے انھیں گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے، پھر اس سے بچاؤ کا کوئی راستہ ان کے پاس نہیں رہا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
34۔ پھر انھیں اپنے اعمال کے برے نتائج سے دوچار ہونا پڑا۔ اور جس عذاب کا وہ تمسخر اڑایا کرتے تھے اسی نے انھیں گھیر لیا
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
فرشتوں کا انتظار ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکوں کو ڈانٹتے ہوئے فرماتا ہے کہ ’ انہیں تو ان فرشتوں کا انتظار ہے جو ان کی روح قبض کرنے کے لیے آئیں گے تا قیامت کا انتظار ہے اور اس کے افعال و احوال کا -ان جیسے ان سے پہلے کے مشرکین کا بھی یہی وطیرہ رہا یہاں تک کہ ان پر عذاب الٰہی آ پڑے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی حجت پوری کر کے، ان کے عذر ختم کر کے، کتابیں اتار کر، وبال میں گھر گئے۔ اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ خود انہوں نے اپنا بگاڑ لیا ‘۔ اسی لیے ان سے قیامت کے دن کہا جائے گا کہ «هَـٰذِهِالنَّارُالَّتِيكُنتُمبِهَاتُكَذِّبُونَ»۱؎[52-الطور:14] ’ یہ ہے وہ آگ جسے تم جھٹلاتے رہے ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ فَاَصَابَهُمْسَیِّاٰتُمَاعَمِلُوْا ﴾”پھر پڑے ان کے سر ان کے برے کام“ یعنی ان کے اعمال بد کے اثرات اور ان کی سزا ﴿ وَحَاقَبِهِمْ ﴾”اور الٹ پڑا ان پر“ یعنی ان پر وہ عذاب نازل ہوا ﴿ مَّاكَانُوْابِهٖیَسْتَهْزِءُوْنَ۠ ﴾”جس کے ساتھ وہ ٹھٹھا کرتے تھے“ کیونکہ ان کے رسولوں نے جب انھیں عذاب سے ڈرایا تو انھوں نے ان سے استہزا کیا اورجو خبر انھوں نے دی اس کا تمسخر اڑایا آخر ان پر وہ عذاب ٹوٹ پڑا جس کا وہ تمسخر اڑایا کرتے تھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فأصابهم سيِّئاتُ ما عملوا}؛ أي: عقوبات أعمالهم وآثارها، {وحاق بهم}؛ أي: نزل {ما كانوا به يستهزئون}: فإنهم كانوا إذا أخبرتهم رسلُهم بالعذاب؛ استهزؤوا به، وسخروا ممَّن أخبر به، فحلَّ بهم ذلك الأمر الذي سخروا منه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔