تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النحل (16) — آیت 33

ہَلۡ یَنۡظُرُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ تَاۡتِیَہُمُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ اَوۡ یَاۡتِیَ اَمۡرُ رَبِّکَ ؕ کَذٰلِکَ فَعَلَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ؕ وَ مَا ظَلَمَہُمُ اللّٰہُ وَ لٰکِنۡ کَانُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ یَظۡلِمُوۡنَ ﴿۳۳﴾
وہ اس کے سوا کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آجائیں، یا تیرے رب کا حکم آجائے۔ ایسے ہی ان لوگوں نے کیا جو ان سے پہلے تھے اور اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا اور لیکن وہ خود اپنے آپ پر ظلم کیا کرتے تھے۔ En
کیا یہ (کافر) اس بات کے منتظر ہیں کہ فرشتے ان کے پاس (جان نکالنے) آئیں یا تمہارے پروردگار کا حکم (عذاب) آپہنچے۔ اسی طرح اُن لوگوں نے کیا تھا جو اُن سے پہلے تھے اور خدا نے اُن پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے
En
کیا یہ اسی بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آجائیں یا تیرے رب کا حکم آجائے؟ ایسا ہی ان لوگوں نے بھی کیا تھا جو ان سے پہلے تھے۔ ان پر اللہ تعالیٰ نے کوئی ﻇلم نہیں کیا بلکہ وه خود اپنی جانوں پر ﻇلم کرتے رہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: کیا یہ لوگ جن کے پاس اللہ تعالیٰ کی آیتیں آئیں مگر وہ ایمان نہ لائے انھیں نصیحت کی گئی مگر انھوں نے نصیحت نہ پکڑی… اس بات کا انتظار کر رہے ہیں؟ ﴿ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ کہ فرشتے (ان کی روح قبض کرنے کے لیے) ان کے پاس آئیں۔ ﴿ اَوْ یَاْ٘تِیَ اَمْرُ رَبِّكَ یا تمھارے رب کا حکم (عذاب) نازل ہو جائے کیونکہ انھوں نے اپنے آپ کو عذاب کے وقوع کا مستحق بنا لیا ہے۔ ﴿ كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ اسی طرح کیا ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے انھوں نے انبیاء کی تکذیب کی اور ان کا انکار کیا، پھر وہ اس وقت تک ایمان نہ لائے جب تک ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل نہ ہوا۔ ﴿ وَمَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ اور نہیں ظلم کیا ان پر اللہ نے یعنی جب ان پر اللہ تعالیٰ نے عذاب نازل کیا۔ ﴿ وَلٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَؔ لیکن وہ خود اپنے آپ پر ظلم کرنے والے تھے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے پیدا کیے گئے ہیں تاکہ ان کا انجام اللہ تعالیٰ کے اکرام و تکریم کا حصول ہو۔ پس انھوں نے ظلم کیا اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے لیے ان کو پیدا کیا گیا تھا اور انھوں نے اپنے نفوس کو دائمی اہانت اور پیچھا نہ چھوڑنے والی بدبختی کے سامنے پیش کر دیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى: هل ينظُرُ هؤلاء الذين جاءتهم الآيات فلم يؤمنوا وذُكِّروا فلم يتذكَّروا، {إلاَّ أن تأتِيَهُمُ الملائكةُ}: لقبض أرواحهم، {أو يأتي أمرُ ربِّك}: بالعذاب الذي سيحِلُّ بهم؛ فإنَّهم قد استحقُّوا لوقوعه فيهم. {كذلك فَعَلَ الذين من قبلهم}: كذَّبوا وكفروا، ثم لم يؤمنوا، حتى نزل بهم العذاب. {وما ظلمهم الله}؛ إذ عذَّبهم، {ولكن كانوا أنفسَهم يظلِمونَ}؛ فإنَّها مخلوقةٌ لعبادة الله؛ ليكونَ مآلُها إلى كرامة الله، فظلموها وتركوا ما خُلِقَتْ له وعرَّضوها للإهانة الدائمة والشقاء الملازم.