وہ فرشتوں کو وحی کے ساتھ اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے نازل کرتا ہے کہ خبردار کر دو کہ حقیقت یہ ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، سو مجھ سے ڈرو۔
En
وہی فرشتوں کو پیغام دے کر اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جس کے پاس چاہتا ہے بھیجتا ہے کہ (لوگوں کو) بتادو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو مجھی سے ڈرو
وہی فرشتوں کو اپنی وحی دے کر اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اتارتا ہے کہ تم لوگوں کو آگاه کر دو کہ میرے سوا اور کوئی معبود نہیں، پس تم مجھ سے ڈرو
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو ان سے منزہ قرار دیا ہے جن سے اللہ تعالیٰ کو اس کے دشمنوں نے متصف کیا ہے۔ اس لیے اس وحی کا ذکر فرمایا جو اس نے اپنے انبیاء و مرسلین پر نازل فرمائی جس کی اتباع کو وہ پسند فرماتا ہے۔ اس وحی میں ان صفات کمال کا ذکر فرمایا جن کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا جانا چاہیے۔ فرمایا: ﴿ یُنَزِّلُالْمَلٰٓىِٕكَةَبِالرُّوْحِمِنْاَمْرِهٖ﴾”وہ اتارتا ہے فرشتوں کو وحی دے کر اپنے حکم سے“ یعنی اس وحی کے ساتھ، جس پر روح کی زندگی کا دارومدار ہے ﴿ عَلٰىمَنْیَّشَآءُمِنْعِبَادِهٖۤ ﴾”اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے“ یعنی ان بندوں پر وحی نازل فرماتا ہے جن کے بارے میں وہ جانتا ہے کہ وہ اس کی رسالت کا بوجھ اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت کا لب لباب اور اس کا دارومدار اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد پر ہے: ﴿ اَنْاَنْذِرُوْۤااَنَّهٗلَاۤاِلٰ٘هَاِلَّاۤاَنَا ﴾”انھیں خبردار کرو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں “ یعنی انھیں اللہ تعالیٰ کی معرفت اور صفات عظمت میں اس کی وحدانیت کے بارے میں ڈراؤ، جو کہ درحقیقت صفات الوہیت ہیں اور انھیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف بلاؤ جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتابیں نازل فرمائیں اور اپنے رسول مبعوث کیے۔ تمام شرائع اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف دعوت دیتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت پر زور دیتی ہیں اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کی عبادت کی مخالفت کرتا اور اس کے متضاد کام کرتا ہے یہ شرائع اس کے خلاف جہاد کرتی ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولما نزَّه نفسَه عما وَصَفَهُ به أعداؤه؛ ذَكَرَ الوحي الذي ينزِّله على أنبيائه مما يجب اتباعه في ذكر ما يُنسب لله من صفات الكمال، فقال: {ينزِّلُ الملائكة بالرُّوح من أمره}؛ أي: بالوحي الذي به حياة الأرواح، {على مَن يشاءُ من عبادِهِ}: ممَّن يعلمه صالحاً لتحمُّل رسالته. وزبدة دعوة الرسل كلِّهم ومدارها على قوله: {أنْ أنذروا أنَّه لا إله إلاَّ أنا} ؛ أي: على معرفة الله تعالى، وتوحُّده في صفات العظمة، التي هي صفات الألوهيَّة، وعبادته وحده لا شريك له؛ فهي التي أنزل بها كتبه، وأرسل رسله، وجعل الشرائع كلها تدعو إليها، وتحثُّ، وتجاهد مَنْ حاربها، وقام بضدِّها.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔