یُنَزِّلُ الۡمَلٰٓئِکَۃَ بِالرُّوۡحِ مِنۡ اَمۡرِہٖ عَلٰی مَنۡ یَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِہٖۤ اَنۡ اَنۡذِرُوۡۤا اَنَّہٗ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّاۤ اَنَا فَاتَّقُوۡنِ ﴿۲﴾
وہ فرشتوں کو وحی کے ساتھ اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے نازل کرتا ہے کہ خبردار کر دو کہ حقیقت یہ ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، سو مجھ سے ڈرو۔
En
وہی فرشتوں کو پیغام دے کر اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جس کے پاس چاہتا ہے بھیجتا ہے کہ (لوگوں کو) بتادو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو مجھی سے ڈرو
En
وہی فرشتوں کو اپنی وحی دے کر اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اتارتا ہے کہ تم لوگوں کو آگاه کر دو کہ میرے سوا اور کوئی معبود نہیں، پس تم مجھ سے ڈرو
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت2) ➊ { يُنَزِّلُ الْمَلٰٓىِٕكَةَ بِالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِهٖ:} ملائکہ سے مراد جبریل علیہ السلام اور ان کے ساتھ وحی کے محافظ فرشتے ہیں۔ صرف جبریل علیہ السلام بھی مراد ہو سکتے ہیں، کیونکہ کسی بڑی شخصیت کے لیے جمع کا لفظ بھی بول لیا جاتا ہے۔ {”اَلرُّوْحُ“ } سے مراد وہ چیز جس سے زندگی حاصل ہوتی ہے، یہاں مراد وحی ہے، کیونکہ حقیقی زندگی اسی سے حاصل ہوتی ہے، دل کی زندگی بھی اور آخرت کی زندگی بھی، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ كَذٰلِكَ اَوْحَيْنَاۤ اِلَيْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا}» [الشوریٰ: ۵۲] ”اور اسی طرح ہم نے تیری طرف اپنے حکم سے ایک روح کی وحی کی۔“ یہاں بھی {” رُوْحًا “ } سے مراد وحی ہے۔ {” اَمْرِهٖ “} یعنی فرشتے اس کے حکم کے بغیر نہیں اترتے۔ دیکھیے سورۂ مریم (۶۴)۔
➋ { عَلٰى مَنْ يَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ:} معلوم ہوا نبوت وہبی چیز ہے جو محض اللہ کی مشیت اور اس کے انتخاب سے عطا ہوتی ہے، فرمایا: «{ اَللّٰهُ يَصْطَفِيْ مِنَ الْمَلٰٓىِٕكَةِ رُسُلًا وَّ مِنَ النَّاسِ }» [الحج: ۷۵] ”اللہ فرشتوں میں سے پیغام پہنچانے والے چنتا ہے اور لوگوں سے بھی۔“ اور فرمایا: «{ اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ }» [الأنعام: ۱۲۴] ”اللہ زیادہ جاننے والا ہے جہاں وہ اپنی رسالت رکھتا ہے۔“ یہ اپنی ریاضت یا چلہ کشی سے حاصل ہونے والی چیز نہیں، جیسا کہ قادیانی دجال اور بعض گمراہ لوگوں کا دعویٰ ہے۔
➌ { اَنْ اَنْذِرُوْۤا اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاتَّقُوْنِ:} آیت کے اس ٹکڑے میں فرشتوں کو وحی دے کر اپنے تمام رسولوں کی طرف بھیجنے کا مقصد بیان فرمایا کہ وہ اللہ کی توحید، اس کے ساتھ کسی بھی قسم کے شرک سے بچنا اور اسی سے ڈرتے رہنا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْۤ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ }» [الأنبیاء: ۲۵] ”اور ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس کی طرف یہ وحی کرتے تھے کہ حقیقت یہ ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، سو میری عبادت کرو۔“
➋ { عَلٰى مَنْ يَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ:} معلوم ہوا نبوت وہبی چیز ہے جو محض اللہ کی مشیت اور اس کے انتخاب سے عطا ہوتی ہے، فرمایا: «{ اَللّٰهُ يَصْطَفِيْ مِنَ الْمَلٰٓىِٕكَةِ رُسُلًا وَّ مِنَ النَّاسِ }» [الحج: ۷۵] ”اللہ فرشتوں میں سے پیغام پہنچانے والے چنتا ہے اور لوگوں سے بھی۔“ اور فرمایا: «{ اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ }» [الأنعام: ۱۲۴] ”اللہ زیادہ جاننے والا ہے جہاں وہ اپنی رسالت رکھتا ہے۔“ یہ اپنی ریاضت یا چلہ کشی سے حاصل ہونے والی چیز نہیں، جیسا کہ قادیانی دجال اور بعض گمراہ لوگوں کا دعویٰ ہے۔
➌ { اَنْ اَنْذِرُوْۤا اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاتَّقُوْنِ:} آیت کے اس ٹکڑے میں فرشتوں کو وحی دے کر اپنے تمام رسولوں کی طرف بھیجنے کا مقصد بیان فرمایا کہ وہ اللہ کی توحید، اس کے ساتھ کسی بھی قسم کے شرک سے بچنا اور اسی سے ڈرتے رہنا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْۤ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ }» [الأنبیاء: ۲۵] ”اور ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس کی طرف یہ وحی کرتے تھے کہ حقیقت یہ ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، سو میری عبادت کرو۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
2۔ 1 رُوْح سے مراد وحی ہے جیسا کہ قرآن مجید کے دوسرے مقام پر ہے۔ (وَكَذٰلِكَ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا ۭ مَا كُنْتَ تَدْرِيْ مَا الْكِتٰبُ وَلَا الْاِيْمَانُ) (42۔ الشوری:52) ' اسی طرح ہم نے آپ کی طرف اپنے حکم سے وحی کی، اس سے پہلے آپ کو علم نہیں تھا کہ کتاب کیا ہے، اور ایمان کیا ' 2۔ 2 مراد انبیاء (علیہم السلام) ہیں جن پر وحی ٰ نازل ہوتی ہے۔ جس طرح اللہ نے فرمایا (اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ) 6۔ الأنعام:124) ' اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ اپنی رسالت کہاں رکھے اور وہ اپنے حکم سے اپنے بندوں میں جس پر چاہتا ہے وحی ڈالتا یعنی نازل فرماتا ہے تاکہ وہ ملاقات والے (قیامت کے) دن سے لوگوں کو ڈرائے ـ'۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
2۔ وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنے حکم سے وحی [3] دے کر فرشتے نازل [4] کرتا ہے اور (ان بندوں کو حکم دیتا ہے) متنبہ کر دو کہ میرے سوا کوئی الٰہ نہیں لہذا مجھی سے ڈرو
[3] روح کے مختلف معانی:۔
روح کا لفظ قرآن میں مندرجہ ذیل تین معنوں میں استعمال ہوا ہے:
1۔ روح بمعنی وہ لطیف جوہر جو جاندار میں موجود ہے اور جس کی وجہ سے اس جاندار کے اعضاء و جوارح حرکت کرتے ہیں اور جب یہ روح نکل جاتی ہے تو جاندار بے جان ہو جاتا یا مر جاتا ہے جس طرح اس روح کی حقیقت کا علم انسان کو بہت کم دیا گیا ہے اسی طرح روح کے معانی پر احاطہ کرنا بھی انسان کی دسترس سے باہر ہے۔ [17: 85]
2۔ روح بمعنی فرشتہ جیسے فرمایا: ﴿فَاَرْسَلْنَآ اِلَيْهَا رُوْحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا﴾ [17: 19] (یعنی ہم نے مریم کی طرف اپنی روح یا فرشتہ بھیجا جو ایک تندرست انسان کی شکل بن گیا) روح سے مراد عام فرشتہ بھی ہو سکتا ہے اور جبرئیلؑ بھی۔ مگر جب روح القدس یا روح الامین کا لفظ آئے تو اس سے مراد صرف سیدنا جبرئیلؑ ہوں گے۔
3۔ روح بمعنی وہ پیغام جو فرشتہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے لائے اور اس سے مراد وحی بھی ہو سکتا ہے اور سارا قرآن بھی۔ روح کے ساتھ جب من الامر یا من امر کے الفاظ آئیں تو اس سے مراد وحی ہی ہوتی ہے جیسا کہ اس مقام پر ہے بالروح من امرہ اور ایک دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿وَكَذٰلِكَ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا﴾ اس مقام پر روح سے مراد پورا قرآن ہے نیز ایک دوسرے مقام پر وحی یا رسالت کے معنوں میں اس طرح آیا ہے: ﴿يُلْقِي الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ عَليٰ مَنْ يَّشَاءُ مِنْ عِبَادِهٖ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنا پیغام نازل کرتا ہے۔ اور اس مقام پر جو وحی کے لیے روح کا لفظ استعمال فرمایا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ جس طرح جسمانی زندگی کے لیے روح کی ضرورت ہوتی ہے کہ اگر روح نہ رہے تو زندگی ختم ہو جاتی ہے۔ اسی طرح صالح طرز زندگی یا نظام حیات کے لیے وحی الٰہی کی ضرورت ہوتی ہے جس کے بغیر صالح نظام قائم ہو ہی نہیں سکتا اور اگر وحی الٰہی کے مطابق عمل نہ کیا جائے تو اس نظام کا شیرازہ بکھر جاتا ہے اور اس کی جگہ کوئی اور فاسد نظام رائج ہو جاتا ہے۔
[4] ﴿الملئكة﴾ جمع کا صیغہ ہے مگر اس سے مراد صرف ایک فرشتہ ہے یعنی جبرئیلؑ کیونکہ وہی پیغامبر اور پیغام رسانی کرنے والے فرشتوں کے سردار ہیں اور محاورۃً عرب میں سردار رئیس کے لیے جمع کا صیغہ استعمال کرتے ہیں۔ قرآن مجید میں اس کی اور بھی نظائر موجود ہیں اور ابن عباسؓ کا بھی یہی قول ہے۔ اس جملہ میں مشرکین مکہ کے دو اعتراضات کا جواب آگیا ہے ایک تو وہی اعتراض کہ اگر یہ نبی سچا ہے تو ہم پر عذاب کیوں نہیں آیا اور اس سے ان کی مراد نبی کی تکذیب ہوتی تھی۔ ان کا دوسرا اعتراض یہ تھا کہ اگر اللہ نے کسی کو نبی بنانا ہی تھا تو کیا مکہ اور طائف کے سردار مارے گئے تھے بس یہی آدمی اللہ کو نبوت کے لیے ملا تھا [سوره زخرف آيت 31]
اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب یہ دیا کہ مجھے اس معاملہ میں تمہارے مشورہ کی ضرورت نہیں۔ میں خود ہی بہتر سمجھتا ہوں کہ نبوت کا مستحق کون ہے۔ اور اس کے لیے کن صفات کا ہونا ضروری ہے۔ لہٰذا میں جسے چاہتا ہوں اس فضل سے نوازتا ہوں تاکہ وہ لوگوں کو متنبہ کریں کہ الٰہ صرف میں ہی ہوں لہٰذا تمہیں صرف مجھی سے ڈرنا چاہیے۔
1۔ روح بمعنی وہ لطیف جوہر جو جاندار میں موجود ہے اور جس کی وجہ سے اس جاندار کے اعضاء و جوارح حرکت کرتے ہیں اور جب یہ روح نکل جاتی ہے تو جاندار بے جان ہو جاتا یا مر جاتا ہے جس طرح اس روح کی حقیقت کا علم انسان کو بہت کم دیا گیا ہے اسی طرح روح کے معانی پر احاطہ کرنا بھی انسان کی دسترس سے باہر ہے۔ [17: 85]
2۔ روح بمعنی فرشتہ جیسے فرمایا: ﴿فَاَرْسَلْنَآ اِلَيْهَا رُوْحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا﴾ [17: 19] (یعنی ہم نے مریم کی طرف اپنی روح یا فرشتہ بھیجا جو ایک تندرست انسان کی شکل بن گیا) روح سے مراد عام فرشتہ بھی ہو سکتا ہے اور جبرئیلؑ بھی۔ مگر جب روح القدس یا روح الامین کا لفظ آئے تو اس سے مراد صرف سیدنا جبرئیلؑ ہوں گے۔
3۔ روح بمعنی وہ پیغام جو فرشتہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے لائے اور اس سے مراد وحی بھی ہو سکتا ہے اور سارا قرآن بھی۔ روح کے ساتھ جب من الامر یا من امر کے الفاظ آئیں تو اس سے مراد وحی ہی ہوتی ہے جیسا کہ اس مقام پر ہے بالروح من امرہ اور ایک دوسرے مقام پر فرمایا: ﴿وَكَذٰلِكَ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا﴾ اس مقام پر روح سے مراد پورا قرآن ہے نیز ایک دوسرے مقام پر وحی یا رسالت کے معنوں میں اس طرح آیا ہے: ﴿يُلْقِي الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ عَليٰ مَنْ يَّشَاءُ مِنْ عِبَادِهٖ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنا پیغام نازل کرتا ہے۔ اور اس مقام پر جو وحی کے لیے روح کا لفظ استعمال فرمایا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ جس طرح جسمانی زندگی کے لیے روح کی ضرورت ہوتی ہے کہ اگر روح نہ رہے تو زندگی ختم ہو جاتی ہے۔ اسی طرح صالح طرز زندگی یا نظام حیات کے لیے وحی الٰہی کی ضرورت ہوتی ہے جس کے بغیر صالح نظام قائم ہو ہی نہیں سکتا اور اگر وحی الٰہی کے مطابق عمل نہ کیا جائے تو اس نظام کا شیرازہ بکھر جاتا ہے اور اس کی جگہ کوئی اور فاسد نظام رائج ہو جاتا ہے۔
[4] ﴿الملئكة﴾ جمع کا صیغہ ہے مگر اس سے مراد صرف ایک فرشتہ ہے یعنی جبرئیلؑ کیونکہ وہی پیغامبر اور پیغام رسانی کرنے والے فرشتوں کے سردار ہیں اور محاورۃً عرب میں سردار رئیس کے لیے جمع کا صیغہ استعمال کرتے ہیں۔ قرآن مجید میں اس کی اور بھی نظائر موجود ہیں اور ابن عباسؓ کا بھی یہی قول ہے۔ اس جملہ میں مشرکین مکہ کے دو اعتراضات کا جواب آگیا ہے ایک تو وہی اعتراض کہ اگر یہ نبی سچا ہے تو ہم پر عذاب کیوں نہیں آیا اور اس سے ان کی مراد نبی کی تکذیب ہوتی تھی۔ ان کا دوسرا اعتراض یہ تھا کہ اگر اللہ نے کسی کو نبی بنانا ہی تھا تو کیا مکہ اور طائف کے سردار مارے گئے تھے بس یہی آدمی اللہ کو نبوت کے لیے ملا تھا [سوره زخرف آيت 31]
اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب یہ دیا کہ مجھے اس معاملہ میں تمہارے مشورہ کی ضرورت نہیں۔ میں خود ہی بہتر سمجھتا ہوں کہ نبوت کا مستحق کون ہے۔ اور اس کے لیے کن صفات کا ہونا ضروری ہے۔ لہٰذا میں جسے چاہتا ہوں اس فضل سے نوازتا ہوں تاکہ وہ لوگوں کو متنبہ کریں کہ الٰہ صرف میں ہی ہوں لہٰذا تمہیں صرف مجھی سے ڈرنا چاہیے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
وحی کیا ہے؟ ٭٭
روح سے مراد یہاں وحی ہے جیسے آیت «وَكَذَٰلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِّنْ أَمْرِنَا مَا كُنتَ تَدْرِي مَا الْكِتَابُ وَلَا الْإِيمَانُ وَلَـٰكِن جَعَلْنَاهُ نُورًا نَّهْدِي بِهِ مَن نَّشَاءُ مِنْ عِبَادِنَا» ۱؎ [42-الشوریٰ:52] الخ ’ ہم نے اسی طرح تیری طرف اپنے حکم سے وحی نازل فرمائی حالانکہ تجھے تو یہ بھی پتہ نہ تھا کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کی ماہیت کیا ہے؟ ہاں ہم نے اسے نور بنا کر جسے چاہا اپنے بندوں میں سے راستہ دکھا دیا ‘۔
یہاں فرمان ہے کہ «اللَّـهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ» ۱؎ [6-الأنعام:124] ’ ہم جن بندوں کو چاہیں پیغبری عطا فرماتے ہیں ہمیں ہی اس کا پورا علم ہے کہ اس کے لائق کون؟ ‘ «اللَّـهُ يَصْطَفِي مِنَ الْمَلَائِكَةِ رُسُلًا وَمِنَ النَّاسِ» ۱؎ [22-الحج:75] ’ ہم ہی فرشتوں میں سے بھی اس اعلیٰ منصب کے فرشتے چھانٹ لیتے ہیں اور انسانوں میں سے بھی ‘۔ «يُلْقِي الرُّوحَ مِنْ أَمْرِهِ عَلَىٰ مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ لِيُنذِرَ يَوْمَ التَّلَاقِ يَوْمَ هُم بَارِزُونَ لَا يَخْفَىٰ عَلَى اللَّـهِ مِنْهُمْ شَيْءٌ لِّمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّـهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ» ۱؎ [40-غافر:15-16] ’ اللہ اپنی وحی اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا اتارتا ہے تاکہ ملاقات کے دن سے ہوشیار کر دیں جس دن سب کے سب اللہ کے سامنے ہوں گے کوئی چیز اس سے مخفی نہ ہو گی۔ اس دن ملک کس کا ہو گا؟ صرف اللہ واحد و قہار کا ‘۔
«وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ» ۱؎ [21-الأنبياء:25] ’ ہم نے تُم سے پہلے جو رسُول بھی بھیجا ہے، یہ اس لیے کہ وہ لوگوں میں وحدانیت رب کا اعلان کر دیں اور پارسائی سے دور مشرکوں کو ڈرائیں اور لوگوں کو سمجھائیں کہ وہ مجھ سے ڈرتے رہا کریں ‘۔
یہاں فرمان ہے کہ «اللَّـهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ» ۱؎ [6-الأنعام:124] ’ ہم جن بندوں کو چاہیں پیغبری عطا فرماتے ہیں ہمیں ہی اس کا پورا علم ہے کہ اس کے لائق کون؟ ‘ «اللَّـهُ يَصْطَفِي مِنَ الْمَلَائِكَةِ رُسُلًا وَمِنَ النَّاسِ» ۱؎ [22-الحج:75] ’ ہم ہی فرشتوں میں سے بھی اس اعلیٰ منصب کے فرشتے چھانٹ لیتے ہیں اور انسانوں میں سے بھی ‘۔ «يُلْقِي الرُّوحَ مِنْ أَمْرِهِ عَلَىٰ مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ لِيُنذِرَ يَوْمَ التَّلَاقِ يَوْمَ هُم بَارِزُونَ لَا يَخْفَىٰ عَلَى اللَّـهِ مِنْهُمْ شَيْءٌ لِّمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّـهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ» ۱؎ [40-غافر:15-16] ’ اللہ اپنی وحی اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا اتارتا ہے تاکہ ملاقات کے دن سے ہوشیار کر دیں جس دن سب کے سب اللہ کے سامنے ہوں گے کوئی چیز اس سے مخفی نہ ہو گی۔ اس دن ملک کس کا ہو گا؟ صرف اللہ واحد و قہار کا ‘۔
«وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ» ۱؎ [21-الأنبياء:25] ’ ہم نے تُم سے پہلے جو رسُول بھی بھیجا ہے، یہ اس لیے کہ وہ لوگوں میں وحدانیت رب کا اعلان کر دیں اور پارسائی سے دور مشرکوں کو ڈرائیں اور لوگوں کو سمجھائیں کہ وہ مجھ سے ڈرتے رہا کریں ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو ان سے منزہ قرار دیا ہے جن سے اللہ تعالیٰ کو اس کے دشمنوں نے متصف کیا ہے۔ اس لیے اس وحی کا ذکر فرمایا جو اس نے اپنے انبیاء و مرسلین پر نازل فرمائی جس کی اتباع کو وہ پسند فرماتا ہے۔ اس وحی میں ان صفات کمال کا ذکر فرمایا جن کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا جانا چاہیے۔ فرمایا: ﴿ یُنَزِّلُ الْمَلٰٓىِٕكَةَ بِالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِهٖ﴾ ”وہ اتارتا ہے فرشتوں کو وحی دے کر اپنے حکم سے“ یعنی اس وحی کے ساتھ، جس پر روح کی زندگی کا دارومدار ہے ﴿ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ ﴾ ”اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے“ یعنی ان بندوں پر وحی نازل فرماتا ہے جن کے بارے میں وہ جانتا ہے کہ وہ اس کی رسالت کا بوجھ اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت کا لب لباب اور اس کا دارومدار اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد پر ہے: ﴿ اَنْ اَنْذِرُوْۤا اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰ٘هَ اِلَّاۤ اَنَا ﴾ ”انھیں خبردار کرو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں “ یعنی انھیں اللہ تعالیٰ کی معرفت اور صفات عظمت میں اس کی وحدانیت کے بارے میں ڈراؤ، جو کہ درحقیقت صفات الوہیت ہیں اور انھیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف بلاؤ جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتابیں نازل فرمائیں اور اپنے رسول مبعوث کیے۔ تمام شرائع اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف دعوت دیتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت پر زور دیتی ہیں اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کی عبادت کی مخالفت کرتا اور اس کے متضاد کام کرتا ہے یہ شرائع اس کے خلاف جہاد کرتی ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولما نزَّه نفسَه عما وَصَفَهُ به أعداؤه؛ ذَكَرَ الوحي الذي ينزِّله على أنبيائه مما يجب اتباعه في ذكر ما يُنسب لله من صفات الكمال، فقال: {ينزِّلُ الملائكة بالرُّوح من أمره}؛ أي: بالوحي الذي به حياة الأرواح، {على مَن يشاءُ من عبادِهِ}: ممَّن يعلمه صالحاً لتحمُّل رسالته. وزبدة دعوة الرسل كلِّهم ومدارها على قوله: {أنْ أنذروا أنَّه لا إله إلاَّ أنا} ؛ أي: على معرفة الله تعالى، وتوحُّده في صفات العظمة، التي هي صفات الألوهيَّة، وعبادته وحده لا شريك له؛ فهي التي أنزل بها كتبه، وأرسل رسله، وجعل الشرائع كلها تدعو إليها، وتحثُّ، وتجاهد مَنْ حاربها، وقام بضدِّها.