تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النحل (16) — آیت 13

وَ مَا ذَرَاَ لَکُمۡ فِی الۡاَرۡضِ مُخۡتَلِفًا اَلۡوَانُہٗ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّقَوۡمٍ یَّذَّکَّرُوۡنَ ﴿۱۳﴾
اور جو کچھ اس نے تمھارے لیے زمین میں پھیلا دیا ہے، جس کے رنگ مختلف ہیں،بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا بڑی نشانی ہے جو نصیحت حاصل کرتے ہیں۔ En
اور جو طرح طرح کے رنگوں کی چیزیں اس نے زمین میں پیدا کیں (سب تمہارے زیر فرمان کردیں) نصیحت پکڑنے والوں کے لیے اس میں نشانی ہے
En
اور بھی بہت سی چیزیں طرح طرح کے رنگ روپ کی اس نے تمہارے لیے زمین پر پھیلا رکھی ہیں۔ بیشک نصیحت قبول کرنے والوں کے لیے اس میں بڑی بھاری نشانی ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے مختلف انواع کے جو حیوانات، نباتات اور شجر وغیرہ پیدا کیے ہیں، جن کے رنگ ایک دوسرے سے مختلف اور جن کے فوائد بہت متنوع ہیں اور ان کو بندوں کے استفادے کے لیے زمین پر پھیلایا ہے، یہ سب اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت، بے پایاں احسان اور بے حساب فضل و کرم کی نشانیاں ہیں، نیز اس حقیقت پر دلالت کرتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ ﴿ لِّقَوْمٍ یَّذَّكَّـرُوْنَ ان لوگوں کے لیے نشانی ہیں جو سوچتے ہیں یعنی وہ لوگ جو اپنے حافظے میں علم نافع کو محفوظ رکھتے ہیں، پھر ان امور پر غوروفکر کرتے ہیں جن پر غوروفکر کرنے کی اللہ تعالیٰ نے دعوت دی ہے یہاں تک کہ وہ اس حقیقت تک پہنچ جاتے ہیں جس پر یہ علم دلالت کرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: فيما ذرأ الله ونشر للعباد من كلِّ ما على وجه الأرض من حيوان وأشجار ونبات وغير ذلك مما تختلفُ ألوانه وتختلف منافعه آيةٌ على كمال قدرة الله وعميم إحسانِهِ وسَعَةِ برِّه وأنَّه الذي لا تنبغي العبادة إلاَّ له وحدَه لا شريك له. {لقوم يذكرونَ}؛ أي: يستحضرون في ذاكرتهم ما ينفعُهم من العلم النافع ويتأمَّلون ما دعاهم الله إلى التأمُّل فيه حتى يتذكَّروا بذلك ما هو دليل عليه.