اور وہی ہے جس نے سمندر کو مسخر کر دیا، تاکہ تم اس سے تازہ گوشت کھائو اور اس سے زینت کی چیزیں کثرت سے نکالو، جنھیں تم پہنتے ہو۔ اور توکشتیوں کو دیکھتا ہے، اس میں پانی کو چیرتی چلی جانے والی ہیں اور تاکہ تم اس کا کچھ فضل تلاش کرو اور تاکہ تم شکر کرو۔
En
اور وہی تو ہے جس نے دریا کو تمہارے اختیار میں کیا تاکہ اس میں سے تازہ گوشت کھاؤ اور اس سے زیور (موتی وغیرہ) نکالو جسے تم پہنتے ہو۔ اور تم دیکھتے ہو کہ کشتیاں دریا میں پانی کو پھاڑتی چلی جاتی ہیں۔ اور اس لیے بھی (دریا کو تمہارے اختیار میں کیا) کہ تم خدا کے فضل سے (معاش) تلاش کرو تاکہ اس کا شکر کرو
اور دریا بھی اسی نے تمہارے بس میں کر دیے ہیں کہ تم اس میں سے (نکلا ہوا) تازه گوشت کھاؤ اور اس میں سے اپنے پہننے کے زیورات نکال سکو اور تم دیکھتے ہو کہ کشتیاں اس میں پانی چیرتی ہوئی (چلتی) ہیں اور اس لیے بھی کہ تم اس کا فضل تلاش کرو اور ہوسکتا ہے کہ تم شکر گزاری بھی کرو
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے ﴿ الَّذِیْسَخَّرَالْبَحْرَ ﴾”جس نے سمندر کو مسخر کیا“ اور تمھارے مختلف انواع کے فوائد کے لیے اسے تیار کیا۔ ﴿ لِتَاْكُلُوْامِنْهُلَحْمًاطَرِیًّا ﴾”تاکہ کھاؤ تم اس سے تازہ گوشت“ اس سے مراد مچھلی وغیرہ ہے جسے تم شکار کرتے ہو۔ ﴿ وَّتَسْتَخْرِجُوْامِنْهُحِلْیَةًتَلْبَسُوْنَهَا﴾”اور نکالو تم اس سے زیور جو تم پہنتے ہو“ جو تمھارے حسن و جمال میں اضافہ کرتے ہیں۔ ﴿ وَتَرَىالْفُلْكَ ﴾”اور تم دیکھتے ہو کشتیاں “ یعنی جہاز اور کشتیاں وغیرہ ﴿ مَوَاخِرَفِیْهِ﴾”چلتی ہیں اس میں پانی پھاڑ کر“ یعنی موجیں مارتے ہوئے ہولناک سمندر کا سینہ چیرتی ہوئی کشتیاں ایک ملک سے دوسرے ملک تک جاتی ہیں جو مسافروں، ان کا رزق، ان کا مال اسباب اور ان کا سامان تجارت لے کر چلتی ہیں۔ سامان تجارت سے وہ رزق اور اللہ کا فضل تلاش کرتے ہیں۔ ﴿وَلَعَلَّكُمْتَشْكُرُوْنَ ﴾”اور تاکہ تم شکر کرو“ یعنی اس ہستی کا شکر ادا کرو جس نے تمہائے لیے یہ تمام چیزیں تیار کر کے تمھیں میسر کیں اور تم اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کرو جس نے تمھیں ان چیزوں سے نوازا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ ہی شکر کا مستحق ہے اور اس کے لیے حمدوثنا ہے کیونکہ اس نے اپنے بندوں کو ان کی طلب سے زیادہ اور ان کی آرزؤں سے بڑھ کر مصالح اور فوائد عطا کیے۔ اس کی حمدوثنا کا شمار نہیں جا سکتا بلکہ وہ ویسے ہی ہے جیسے اس نے اپنی ثناخود بیان کی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: [و] هو وحده لا شريك له {الذي سخَّر البحر}: وهيَّأه لمنافعكم المتنوِّعة؛ {لتأكلوا منه لحماً طريًّا}: وهو السمك والحوتُ الذي يصطادونه منه، {وتستخرِجوا منه حِلْيَةً تلبسَونها}: فتزيدُكم جمالاً وحُسناً إلى حسنكم. {وترى الفُلْكَ}؛ أي: السفن والمراكب {مواخِرَ فيه}؛ أي: تَمْخَرُ البحر العجاجَ الهائلَ بمقَدَّمها حتى تسلك فيه من قطرٍ إلى آخر تحمل المسافرين وأرزاقهم وأمتعتهم وتجاراتهم التي يطلبون بها الأرزاق وفضل الله عليهم. {ولعلَّكم تشكُرون}: الذي يسَّر لكم هذه الأشياء وهيَّأها وتُثنون على الله الذي مَنَّ بها؛ فلله تعالى الحمدُ والشكر والثناء؛ حيث أعطى العباد من مصالحهم ومنافعهم فوق ما يطلبون وأعلى مما يتمنَّوْن وآتاهم من كلِّ ما سألوه لا نحصي ثناء عليه، بل هو كما أثنى على نفسه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔