تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النحل (16) — آیت 12

وَ سَخَّرَ لَکُمُ الَّیۡلَ وَ النَّہَارَ ۙ وَ الشَّمۡسَ وَ الۡقَمَرَ ؕ وَ النُّجُوۡمُ مُسَخَّرٰتٌۢ بِاَمۡرِہٖ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّعۡقِلُوۡنَ ﴿ۙ۱۲﴾
اور اس نے تمھاری خاطر رات اور دن اور سورج اور چاند کو مسخر کر دیا اور ستارے اس کے حکم کے ساتھ مسخر ہیں۔ بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو سمجھتے ہیں۔ En
اور اسی نے تمہارے لیے رات اور دن اور سورج اور چاند کو کام میں لگایا۔ اور اسی کے حکم سے ستارے بھی کام میں لگے ہوئے ہیں۔ سمجھنے والوں کے لیے اس میں (قدرت خدا کی بہت سی) نشانیاں ہیں
En
اسی نے رات دن اور سورج چاند کو تمہارے لیے تابع کر دیا ہے اور ستارے بھی اسی کے حکم کے ماتحت ہیں۔ یقیناًاس میں عقلمند لوگوں کے لیے کئی ایک نشانیاں موجود ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی یہ تمام چیزیں تمھارے فوائد اور تمھارے مختلف مصالح کے لیے مسخر کی ہیں کیونکہ تم ان چیزوں سے کبھی بھی بے نیاز نہیں رہ سکتے۔ رات کے وقت تم سوتے ہو، سکون اور آرام حاصل کرتے ہو، دن کے وقت تم اپنی معاش اور اپنے دینی اور دنیاوی مفادات کے حصول کی خاطر زمین میں پھیل جاتے ہو۔ سورج اور چاند سے تمھیں روشنی، نور اور اجالا حاصل ہوتا ہے، اس سے درختوں، پھلوں اور نباتات کی اصلاح ہوتی ہے۔ زمین کی مختلف رطوبتوں میں کمی واقع ہوتی ہے اور اس برودت کا ازالہ ہوتا ہے جو زمین اور حیوانی ابدان کے لیے نقصان دہ ہوتی ہے… اور اس قسم کی دیگر ضروریات و حوائج جن کا دارومدار سورج اور چاند کے وجود پر ہے۔ علاوہ ازیں چاند، سورج اور ستارے آسمان کی زینت ہیں، بحروبر کی تاریکیوں میں ان کے ذریعے سے راستے تلاش کیے جاتے ہیں، اوقات معلوم کیے جاتے ہیں اور زمانوں کا حساب لگایا جاتا ہے۔ جن سے مختلف انواع کے دلائل حاصل ہوتے ہیں اور آیات میں تصرف ہوتا ہے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ان سب کی طرف اشارہ کر کے فرمایا۔ ﴿ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ بے شک ان میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو سمجھ رکھتے ہیں یعنی ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں اور جس مقصد کے لیے یہ اشیاء بنائی اور تیار کی گئی ہیں اس میں غوروفکر اور تدبر کرتے ہوئے وہ اس عقل کو استعمال کرے ہیں اور عقل جس چیز کو بھی دیکھتی یا سنتی ہے اسے سمجھتی ہے۔ نہ کہ غافلوں کی مانند نظر رکھنا، جو دیکھنے سے اتنے ہی بہرہ ور ہوتے ہیں جتنے وہ جانور جو عقل و فہم سے عاری ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: سخَّر لكم هذه الأشياء لمنافعكم وأنواع مصالحكم؛ بحيث لا تستغنون عنها أبداً؛ فبالليل تسكنون وتنامون وتستريحون، وبالنهار تنتشرون في معايِشِكم ومنافع دينكم ودنياكم، وبالشمس والقمر من الضياء والنور والإشراق وإصلاح الأشجار والثمار والنبات وتجفيف الرطوبات وإزالة البرودة الضارَّة للأرض وللأبدان وغير ذلك من الضروريَّات والحاجيات التابعة لوجود الشمس والقمر، وفيهما وفي النُّجوم من الزينة للسماء والهداية في ظلمات البرِّ والبحر ومعرفة الأوقات وحساب الأزمنة ما تتنوَّع دلالاتها وتتصرَّف آياتها، ولهذا جمعها في قوله: {إنَّ في ذلك لآياتٍ لقوم يعقلونَ}؛ أي: لمن لهم عقولٌ يستعملونها في التدبُّر والتفكُّر فيما هي مهيئة له مستعدَّة، تعقِل ما تراه وتسمعُه، لا كنظر الغافلين الذين حظُّهم من النظر حظُّ البهائم التي لا عقل لها.