تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النحل (16) — آیت 104

اِنَّ الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ ۙ لَا یَہۡدِیۡہِمُ اللّٰہُ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۱۰۴﴾
بے شک وہ لوگ جو اللہ کی آیات پر ایمان نہیں لاتے اللہ انھیں ہدایت نہیں دیتا اور انھی کے لیے دردناک عذاب ہے۔ En
یہ لوگ خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے ان کو خدا ہدایت نہیں دیتا اور ان کے لئے عذاب الیم ہے
En
جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیتوں پر ایمان نہیں رکھتے انہیں اللہ کی طرف سے بھی رہنمائی نہیں ہوتی اور ان کے لیے المناک عذاب ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ بے شک وہ لوگ جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے جو نہایت صراحت کے ساتھ حق مبین پر دلالت کرتی ہیں۔ پس یہ لوگ ان آیات کریمہ کو ٹھکراتے ہیں اور انھیں قبول نہیں کرتے۔ ﴿ لَا یَهْدِیْهِمُ اللّٰهُ ان کو اللہ ہدایت نہیں دیتا کیونکہ ان کے پاس ہدایت آئی مگر انھوں نے اسے ٹھکرا دیا اس لیے ان کو یہ سزا دی گئی کہ ان کو ہدایت سے محروم کر دیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیا ﴿ وَلَهُمْ اور ان کے واسطے یعنی آخرت میں ﴿ عَذَابٌ اَلِیْمٌ دردناک عذاب ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{إنَّ الذين لا يؤمنون بآيات الله}: الدالَّة دلالة صريحةً على الحقِّ المبين فيردُّونها ولا يقبلونها، {لا يهديهِمُ الله}: حيث جاءهم الهدى فردُّوه فعوقِبوا بحِرْمانِهِ وخِذْلان الله لهم. {ولهم}: في الآخرة {عذابٌ أليمٌ}.