تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ النحل (16) — آیت 103

وَ لَقَدۡ نَعۡلَمُ اَنَّہُمۡ یَقُوۡلُوۡنَ اِنَّمَا یُعَلِّمُہٗ بَشَرٌ ؕ لِسَانُ الَّذِیۡ یُلۡحِدُوۡنَ اِلَیۡہِ اَعۡجَمِیٌّ وَّ ہٰذَا لِسَانٌ عَرَبِیٌّ مُّبِیۡنٌ ﴿۱۰۳﴾
اور بلاشبہ یقینا ہم جانتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں اسے تو ایک آدمی ہی سکھاتا ہے، اس شخص کی زبان، جس کی طرف وہ غلط نسبت کر رہے ہیں، عجمی ہے اور یہ واضح عربی زبان ہے۔ En
اور ہمیں معلوم ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) کو ایک شخص سکھا جاتا ہے۔ مگر جس کی طرف (تعلیم کی) نسبت کرتے ہیں اس کی زبان تو عجمی ہے اور یہ صاف عربی زبان ہے
En
ہمیں بخوبی علم ہے کہ یہ کافر کہتے ہیں کہ اسے تو ایک آدمی سکھاتا ہے اس کی زبان جس کی طرف یہ نسبت کر رہے ہیں عجمی ہے اور یہ قرآن تو صاف عربی زبان میں ہے۔ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کرنے والے مشرکین کے قول کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے۔ ﴿ اَنَّهُمْ یَقُوْلُوْنَ اِنَّمَا یُعَلِّمُهٗ وہ کہتے ہیں کہ اس کو تو سکھلاتا ہے یعنی یہ قرآن جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے ہیں ﴿بَشَرٌ ایک آدمی اور وہ شخص جس کی طرف یہ لوگ اشارہ کرتے ہیں عجمی زبان رکھتا ہے ﴿وَهٰؔذَا اور یہ قرآن ﴿ لِسَانٌ عَرَبِیٌّ مُّبِیْنٌ زبان عربی ہے صاف کیا یہ بات ممکن ہے؟ کیا اس بات کا ذرا بھی احتمال ہو سکتا ہے؟ مگر جھوٹا شخص جھوٹ بولتا ہے اور وہ نہیں سوچتا کہ اس کا جھوٹ اسی کی طرف لوٹ آئے گا۔ اس کی بات ایسے تناقض اور فساد کی حامل ہو گی جو محض تصور ہی سے اس بات کی تردید کا موجب ہو گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى عن قِيل المشركين المكذِّبين لرسوله: {أنَّهم يقولونَ إنَّما يعلِّمُه}: هذا الكتاب الذي جاء به، {بَشَرٌ}: وذلك البشرُ الذي يشيرون إليه أعجميُّ اللسان. {وهذا}: القرآن {لسانٌ عربيٌّ مبينٌ}: هل هذا القول ممكنٌ أو له حظٌّ من الاحتمال؟! ولكن الكاذب يكذِبُ ولا يفكِّر فيما يؤول إليه كذبه، فيكون في قوله من التناقض والفساد ما يوجب ردَّه بمجرَّد تصوُّره.