تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ اِنَّمَایَفْتَرِیالْكَذِبَ ﴾ یعنی جھوٹ اور افترا پردازی ان لوگوں سے صادر ہوتی ہے ﴿ الَّذِیْنَلَایُؤْمِنُوْنَبِاٰیٰتِاللّٰهِ﴾”جو آیات الٰہی پر ایمان نہیں رکھتے“، مثلاً: وہ لوگ جو واضح دلائل آ جانے کے بعد بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عناد رکھتے ہیں ﴿ وَاُولٰٓىِٕكَهُمُالْكٰذِبُوْنَ ﴾”اور وہی لوگ جھوٹے ہیں “ یعنی جھوٹ ان میں منحصر ہے اور دوسروں کی بجائے وہی جھوٹ کے اطلاق کے زیادہ مستحق ہیں۔ رہے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم تو وہ آیات الٰہی پر ایمان رکھتے ہیں اور اپنے رب کے سامنے عاجزی کے ساتھ جھکتے ہیں اس لیے محال ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھیں اور اللہ تعالیٰ سے کوئی ایسی بات منسوب کریں جو اس نے نہیں کہی۔ پس آپ کے دشمنوں نے آپ پر جھوٹ کا الزام لگایا، حالانکہ جھوٹ خود ان کا اپنا وصف تھا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی رسوائی کو ظاہر اور ان کی فضیحت کو واضح کر دیا۔ پس ہر قسم کی ستائش اسی کے لیے ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{إنما يفتري الكذب}؛ أي: إنما يصدُرُ افتراء الكذب من {الذين لا يؤمنون بآيات الله}: كالمعاندين لرسولِهِ من بعد ما جاءتهم البيناتُ. {وأولئك هم الكاذبونَ}؛ أي: الكذب منحصرٌ فيهم، وعليهم أولى بأن يطلق من غيرهم. وأما محمدٌ - صلى الله عليه وسلم - المؤمن بآيات الله الخاضع لربِّه؛ فمُحالٌ أن يكذِبَ على الله، ويتقوَّل عليه ما لم يَقُلْ، فأعداؤه رَمَوْه بالكذب الذي هو وصفُهم، فأظهر الله خِزْيهم وبيَّن فضائحهم؛ فله تعالى الحمد.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔