تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحجر (15) — آیت 88

لَا تَمُدَّنَّ عَیۡنَیۡکَ اِلٰی مَا مَتَّعۡنَا بِہٖۤ اَزۡوَاجًا مِّنۡہُمۡ وَ لَا تَحۡزَنۡ عَلَیۡہِمۡ وَ اخۡفِضۡ جَنَاحَکَ لِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۸۸﴾
اپنی آنکھیں اس چیز کی طرف ہرگز نہ اٹھا جس کے ساتھ ہم نے ان کے مختلف قسم کے لوگوں کو فائدہ دیا ہے اور نہ ان پر غم کر اور اپنا بازو مومنوں کے لیے جھکا دے۔ En
اور ہم نے کفار کی کئی جماعتوں کو جو (فوائد دنیاوی سے) متمتع کیا ہے تم ان کی طرف (رغبت سے) آنکھ اٹھا کر نہ دیکھنا اور نہ ان کے حال پر تاسف کرنا اور مومنوں سے خاطر اور تواضع سے پیش آنا
En
آپ ہر گز اپنی نظریں اس چیز کی طرف نہ دوڑائیں، جس سے ہم نے ان میں سے کئی قسم کے لوگوں کو بہره مند کر رکھا ہے، نہ ان پر آپ افسوس کریں اور مومنوں کے لیے اپنے بازو جھکائے رہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اور جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن عظیم اور اس کے ساتھ سبع مثانی عطا کیں تو گویا اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہترین عطیے سے نواز دیا جس کے حصول میں لوگ ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر رغبت رکھتے ہیں اور مومنین جس پر سب سے زیادہ خوشی محسوس کرتے ہیں۔ فرمایا: ﴿ قُ٘لْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَبِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْ٘یَفْرَحُوْا١ؕ هُوَ خَیْرٌ مِّؔمَّؔا یَجْمَعُوْنَ (یونس: 10؍58) کہہ دیجیے کہ یہ اللہ کے فضل و کرم اور اس کی رحمت کے سبب سے ہے، پس اس پر انھیں خوش ہونا چاہیے۔ یہ ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جنھیں یہ لوگ جمع کر رہے ہیں۔
بنا بریں اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّؔنْهُمْ آپ ان چیزوں کی طرف نظر نہ ڈالیں جو ہم نے ان میں سے کئی قسم کے لوگوں کو برتنے کے لیے دیں یعنی یہ چیزیں آپ کو اتنی زیادہ اچھی نہ لگیں کہ آپ کے فکرونظر کو شہوات دنیا میں مشغول کر دیں جن سے دنیا پرست خوش حال لوگ متمتع ہو رہے ہیں اور ان کی وجہ سے جاہل لوگ دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو سات بار بار دہرائی جانے والی آیات اور قرآن عظیم عطا کیا ہے اس کے ذریعے سے بے نیاز رہیے۔ ﴿ وَلَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ اور ان پر غم نہ کھائیں کیونکہ ان سے کسی بھلائی کی امید اور کسی فائدہ کی توقع نہیں ہے۔ پس اہل ایمان کی صورت میں آپ کو بہترین نعم البدل اور افضل ترین عوض عطا کر دیا گیا ہے۔ ﴿ وَاخْ٘فِضْ جَنَاحَكَ لِلْ٘مُؤْمِنِیْنَ۠ اور مومنوں کے لیے اپنے بازو جھکائے رکھیں یعنی ان کے ساتھ نرم رویہ رکھیے اور ان کے ساتھ حسن اخلاق، محبت، تکریم اور مودت سے پیش آیئے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وإذ كان اللهُ قد أعطاه القرآن العظيم مع السبع المثاني؛ كان قد أعطاه أفضلَ ما يتنافسُ فيه المتنافسون وأعظمَ ما فرح به المؤمنون، {قُلْ بفضل اللهِ وبرحمتِهِ فبذلك فَلْيَفْرحوا هو خيرٌ مما يجمعونَ}، ولذلك قال بعده: {لا تمدَّنَّ عينيك إلى ما متَّعنا به أزواجاً منهم}؛ أي: لا تعجب إعجاباً يحمِلُك على إشغال فكرك بشهوات الدُّنيا التي تمتَّع بها المترفون واغترَّ بها الجاهلون، واستغْنِ بما آتاك الله من المثاني والقرآن العظيم. {ولا تحزَنْ عليهم}: فإنَّهم لا خير فيهم يُرجى، ولا نفع يُرتَقَب؛ فلك في المؤمنين عنهم أحسنُ البدل وأفضل العوض. {واخفِضْ جناحك للمؤمنين}؛ أي: ألِنْ لهم جانبك وحسِّنْ لهم خُلُقَك محبةً وإكراماً وتودُّداً.