تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحجر (15) — آیت 87

وَ لَقَدۡ اٰتَیۡنٰکَ سَبۡعًا مِّنَ الۡمَثَانِیۡ وَ الۡقُرۡاٰنَ الۡعَظِیۡمَ ﴿۸۷﴾
اور بلاشبہ یقینا ہم نے تجھے بار بار دہرائی جانے والی سات آیتیں اور بہت عظمت والا قرآن عطا کیا ہے۔ En
اور ہم نے تم کو سات (آیتیں) جو (نماز میں) دہرا کر پڑھی جاتی ہیں (یعنی سورہٴ الحمد) اور عظمت والا قرآن عطا فرمایا ہے
En
یقیناً ہم نے آپ کو سات آیتیں دے رکھی ہیں کہ دہرائی جاتی ہیں اور عظیم قرآن بھی دے رکھا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی نوازشوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ وَلَقَدْ اٰتَیْنٰكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ ہم نے دیں آپ کو سات آیتیں، دہرائی جانے والی صحیح ترین تفسیر یہ ہے کہ اس سے مراد (السبع الطوال) سات لمبی سورتیں یعنی البقرہ، آل عمران، النساء، المائدہ، الانعام، الاعراف، الانفال اور التوبہ ہیں۔ یا اس سے مراد سورۂ فاتحہ ہے۔ پس ﴿ وَالْ٘قُ٘رْاٰنَ الْعَظِیْمَ کا عطف، عام کا عطف خاص پر، کے باب سے ہو گا۔ کیونکہ ان بار بار پڑھی جانے والی سورتوں میں توحید، علوم غیب اور احکام جلیلہ کا ذکر کیا گیا ہے اور ان مضامین کو بار بار دہرایا گیا ہے اور ان مفسرین کے قول کے مطابق جو سورۂ فاتحہ کو (السبع المثانی) کی مراد قرار دیتے ہیں، معنی یہ ہے کہ یہ سات آیتیں ہیں جو ہر رکعت میں دہرائی جاتی ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى ممتنًّا على رسوله: {ولقد آتيناك سبعاً من المثاني}: وهنَّ على الصحيح السور السبع الطوال: البقرة وآل عمران والنساء والمائدة والأنعام والأعراف والأنفال مع التوبة. أو أنَّها فاتحة الكتاب؛ لأنها سبع آيات. فيكون عطف {القرآن العظيم} على ذلك من باب عطف العامِّ على الخاصِّ؛ لكثرة ما في المثاني من التوحيد وعلوم الغيب والأحكام الجليلة وتثنيتها فيها. وعلى القول بأن الفاتحة هي السبع المثاني معناها أنَّها سبعُ آياتٍ تُثنى في كلِّ ركعة.