تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحجر (15) — آیت 89

وَ قُلۡ اِنِّیۡۤ اَنَا النَّذِیۡرُ الۡمُبِیۡنُ ﴿ۚ۸۹﴾
اور کہہ دے بے شک میں تو کھلم کھلا ڈرانے والا ہوں۔ En
اور کہہ دو کہ میں تو علانیہ ڈر سنانے والا ہوں
En
اور کہہ دیجئے کہ میں تو کھلم کھلا ڈرانے واﻻ ہوں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَقُ٘لْ اِنِّیْۤ اَنَا النَّذِیْرُ الْمُبِیْنُ اور کہہ دیجیے، میں تو کھول کر ڈرانے والا ہوں یعنی لوگوں کو ڈرانے، رسالت کی ادائیگی، قریب اور بعید، دوست اور دشمن کو تبلیغ کی ذمہ داری آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر عائد ہے اسے پورا کیجیے۔ جب آپ نے یہ ذمہ داری ادا کر دی تو ان کا حساب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہے نہ آپ کا حساب ان کے ذمہ ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وقل إني أنا النذير المبين}؛ أي: قم بما عليك من النذارة وأداء الرسالة والتبليغ للقريب والبعيد والعدوِّ والصديق؛ فإنَّك إذا فعلت ذلك؛ فليس عليك من حسابهم من شيء، وما من حسابك عليهم من شيء.