تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ اہل، حجر یعنی صالح علیہ السلام کی قوم کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جو حجاز کے علاقہ حجر میں آباد تھی انھوں نے اپنے رسولوں، یعنی صالح علیہ السلام کو جھٹلایا، جس نے کسی ایک رسول کو جھٹلایا اس نے گویا تمام رسولوں کو جھٹلایا کیونکہ ان سب کی دعوت ایک تھی۔ انھوں نے کسی رسول کی اس کی ذاتی شخصیت کی بنا پر تکذیب نہیں کی بلکہ انھوں نے حق کی تکذیب کی جس کے لانے میں تمام رسول مشترک تھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى عن أهل الحجر، وهم قوم صالح، الذين يسكنون الحجرَ المعروف في أرض الحجاز: أنَّهم كذَّبوا المرسلين؛ أي: كذَّبوا صالحاً، ومن كذَّب رسولاً؛ فقد كذَّب سائر الرسل لاتفاق دعوتهم، وليس تكذيب بعضهم لشخصِهِ، بل لما جاء به من الحقِّ، الذي اشترك جميع الرسل بالإتيان به.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔