(آیت80) ➊ {وَلَقَدْكَذَّبَاَصْحٰبُالْحِجْرِالْمُرْسَلِيْنَ: ”الْحِجْرِ“} اصل میں اس جگہ کو کہتے ہیں جسے پتھروں سے گھیرا گیا ہو، جیسا کہ حطیم کو بھی حجر کہہ لیتے ہیں۔{ ”حَجَرَيَحْجُرُ“} کا معنی روکنا بھی ہے، تو {”الْحِجْرِ“} وہ جگہ جہاں عام لوگوں کا آنا جانا ممنوع ہو۔ یہ اس سورت میں چوتھا قصہ ہے۔ {”الْحِجْرِ“} شام اور مدینہ منورہ کے درمیان ایک مقام ہے، جو صالح علیہ السلام کی قوم ثمود کے لوگوں کا مرکز تھا، یہ جگہ خیبر سے تبوک جانے والی سڑک پر واقع ہے اور اب ”مدائن صالح“ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ علاقہ{ ”العُلاء“} سے چند میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ حجاز سے شام کو جو قافلے جاتے ہیں وہ لازماً یہاں سے گزر کر جاتے ہیں اور یہ اس ریلوے لائن کا ایک سٹیشن بھی ہے جو ترکوں کے زمانہ میں مدینہ سے دمشق کو جاتی تھی۔ اس قوم کے مفصل حالات سورۂ ہود (۶۵ تا ۶۸)، سورۂ اعراف، سورۂ قمر اور سورۂ شعراء میں ملاحظہ فرمائیں۔ ➋ {الْمُرْسَلِيْنَ:} ایک رسول کو جھٹلانا چونکہ سب کو جھٹلانا ہے، اس لیے ان کے بارے میں فرمایا گیا کہ انھوں نے رسولوں کو جھٹلا دیا۔ (روح المعانی)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
80۔ 1 حضرت صالح ؑ کی قوم ثمود کی بستیوں کا نام تھا۔ انھیں (اَصْحٰبُالْحِـجْرِ) 15۔ الحجر:80) (حجر والے) کہا گیا ہے۔ یہ بستی مدینہ اور تبوک کے درمیان تھی۔ انہوں نے اپنے پیغمبر حضرت صالح ؑ کو جھٹلایا۔ لیکن یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ' انہوں نے پیغمبروں کو جھٹلایا، یہ اس لئے کہ ایک پیغمبر کی تکذیب ایسے ہی ہے جیسے سارے پیغمبروں کی تکذیب۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
80۔ اور وادی حجر [42] کے لوگوں نے (بھی) رسولوں کو جھٹلایا تھا
[42] وادی حجر کے لوگوں سے مراد قوم ثمود ہے جس کی طرف صالحؑ کو مبعوث فرمایا گیا تھا اور یہاں جو ایک رسول کے بجائے کئی رسولوں کا ذکر فرمایا تو یہ اس لحاظ سے ہے کہ تمام رسولوں کی بنیادی تعلیم ایک ہی رہی ہے لہٰذا ایک رسول کو جھٹلانا سب رسولوں کو جھٹلانے کے مترادف ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
آل ثمود کی تباہیاں ٭٭
حجر والوں سے مراد ثمودی ہیں جنہوں نے اپنے نبی صالح علیہ السلام کو جھٹلایا تھا اور ظاہر ہے کہ ایک نبی علیہ السلام کا جھٹلانے والا گویا سب نبیوں کا انکار کرنے والا ہے۔ اسی لیے فرمایا گیا کہ ’ انہوں نے نبیوں کو جھٹلایا ‘۔ ان کے پاس ایسے معجزے پہنچے جن سے صالح علیہ السلام کی سچائی ان پر کھل گئی۔ جیسے کہ ایک سخت پتھر کی چٹان سے اونٹنی کا نکلنا جو ان کے شہروں میں چرتی چگتی تھی اور ایک دن وہ پانی پیتی تھی ایک دن شہروں کے جانور۔ مگر پھر بھی یہ لوگ گردن کش ہی رہے بلکہ اس اونٹنی کو مار ڈالا۔ اس وقت صالح علیہ السلام نے فرمایا «تَمَتَّعُوافِيدَارِكُمْثَلَاثَةَأَيَّامٍذَٰلِكَوَعْدٌغَيْرُمَكْذُوبٍ»۱؎[11-ھود:65] ’ بس اب تین دن کے اندر اندر قہرِالٰہی نازل ہو گا۔ یہ بالکل سچا وعدہ ہے اور اٹل عذاب ہے ‘۔ ان لوگوں نے اللہ کی بتلائی ہوئی راہ پر بھی اپنے اندھاپے کو ترجیح دی۔ یہ لوگ صرف اپنی قوت جتانے اور ریاکاری ظاہر کرنے کے واسطے تکبر و تجبر کے طور پر پہاڑوں میں مکان تراشتے تھے۔ کسی خوف کے باعث یا ضرورتاً یہ چیز نہ تھی۔ { جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک جاتے ہوئے ان کے مکانوں سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر پر کپڑا ڈال لیا اور سواری کو تیز چلایا اور اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ { جن پر عذاب الٰہی اترا ہے ان کی بستیوں سے روتے ہوئے گزرو۔ اگر رونا نہ آئے تو رونے جیسی شکل بنا کر چلو کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ انہیں عذابوں کا شکار تم بھی بن جاؤ } }۔ ۱؎[صحیح بخاری:4419] آخر ان پر ٹھیک چوتھے دن کی صبح عذاب الٰہی بصورت چنگھاڑ آیا۔ اس وقت ان کی کمائیاں کچھ کام نہ آئیں۔ جن کھیتوں اور پھولوں کی حفاظت کے لیے اور انہیں بڑھانے کے لیے ان لوگوں نے اونٹنی کا پانی پینا نہ پسند کر کے اسے قتل کر دیا وہ آج بے سود ثابت ہوئے اور امر رب اپنا کام کر گیا۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔