تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ فَانْتَقَمْنَامِنْهُمْ﴾”پس ہم نے ان سے بدلہ لیا“ اور چھتری والے دن کے عذاب نے ان کو آ لیا، بلاشبہ یہ بہت بڑے دن کا عذاب تھا۔ ﴿ وَاِنَّهُمَا ﴾”اور یہ دونوں “ یعنی دیار قوم لوط اور اصحاب ایکہ ﴿ لَبِـاِمَامٍمُّبِیْنٍ﴾”کھلے راستے پر ہیں۔“ یعنی یہ دونوں بستیاں واضح راستے پر واقع ہیں جہاں ہر وقت مسافروں کے قافلے گزرتے رہتے ہیں۔ ان کے وہ آثار نمایاں ہیں جن کا آنکھوں سے مشاہدہ کیا جا سکتا ہے اور عقل مند لوگ اس سے عبرت حاصل کر سکتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فانْتَقَمْنا منهم}: فأخذهم عذابُ يومِ الظُّلَّةِ؛ إنه كان عذاب يوم عظيم. {وإنَّهما}؛ أي: ديار قوم لوطٍ وأصحاب الأيكة، {لبإمام مُبينٍ}؛ أي: لبطريق واضح يمرُّ بهم المسافرون كلَّ وقت، فيبين من آثارهم ما هو مشاهَدٌ بالأبصار، فيعتبر بذلك أولو الألباب.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔