تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحجر (15) — آیت 78

وَ اِنۡ کَانَ اَصۡحٰبُ الۡاَیۡکَۃِ لَظٰلِمِیۡنَ ﴿ۙ۷۸﴾
اور بے شک ’’ایکہ‘‘ والے یقینا ظالم تھے۔ En
اور بَن کے رہنے والے (یعنی قوم شعیب کے لوگ) بھی گنہگار تھے
En
اَیکَہ بستی کے رہنے والے بھی بڑے ﻇالم تھے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم ہے اللہ تعالیٰ نے ان کی (الأیکۃ) کی طرف اضافت کی ہے اور (الأیکۃ) سے مراد وہ باغ ہے جس میں بکثرت درخت ہوں تاکہ اللہ تعالیٰ ان پر اپنی نعمت کا ذکر فرمائے مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کا شکر ادا نہ کیا بلکہ اس کے برعکس، جب ان کے نبی حضرت شعیب علیہ السلام ان کے پاس آئے اور ان کو توحید کی دعوت دی، ناپ تول میں ان کو لوگوں پر ظلم کرنے سے باز آنے کی تلقین کی اور اس ظلم سے ان کو سختی سے منع کیا مگر وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کے بارے میں اپنے ظلم پر جمے رہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کا یہاں ظالمین کے لفظ سے ذکر فرمایا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وهؤلاء قوم شعيبٍ، نَعَتَهُم الله وأضافهم إلى الأيكَة، وهو البستان كثير الأشجار؛ ليذكر نعمته عليهم، وأنهم ما قاموا بها، بل جاءهم نبيُّهم شعيب، فدعاهم إلى التوحيد، وتَرْك ظُلْم الناس في المكاييل والموازين، وعالَجَهم على ذلك أشدَّ المعالجة، فاستمروا على ظلمهم في حقِّ الخالق وفي حقِّ الخلق، ولهذا وصفهم هنا بالظُّلم.