تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحجر (15) — آیت 75

اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّلۡمُتَوَسِّمِیۡنَ ﴿۷۵﴾
بے شک اس میںگہری نظر سے دیکھنے والوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں۔ En
بےشک اس (قصے) میں اہل فراست کے لیے نشانی ہے
En
بلاشبہ بصیرت والوں کے لیے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّلْ٘مُتَوَسِّمِیْنَ بے شک اس میں دھیان کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں یعنی غوروفکر کرنے والوں کے لیے۔ وہ لوگ جو فکر و رائے اور فراست کے مالک ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے کیا مراد ہے، انھیں معلوم ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جرأت کرتا ہے، خاص طور پر اس انتہائی فحش کام کا ارتکاب تو اللہ تعالیٰ اسے اسی طرح بدترین سزا دے گا جس طرح انھوں نے بدترین جرم کے ارتکاب کی جسارت کی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{إن في ذلك لآيات للمتوسِّمين}؛ أي: المتأمِّلين المتفكِّرين الذين لهم فكرٌ ورويَّة وفراسةٌ يفهمون بها ما أريد بذلك مِن أنَّ من تجرّأ على معاصي الله، خصوصاً هذه الفاحشة العظيمة، وأنَّ الله سيعاقِبُهم بأشنع العقوباتِ؛ كما تجرؤوا على أشنع السيئات.