تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحجر (15) — آیت 76

وَ اِنَّہَا لَبِسَبِیۡلٍ مُّقِیۡمٍ ﴿۷۶﴾
اور بے شک وہ (بستی) یقینا ایک دائمی (آباد) راستے پر ہے۔ En
اور وہ (شہر) اب تک سیدھے رستے پر (موجود) ہے
En
یہ بستی ایسی راه پر ہے جو برابر چلتی رہتی (عام گذرگاه) ہے۔ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَاِنَّهَا یعنی حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کا شہر ﴿لَبِسَبِیْلٍ مُّقِیْمٍ واقع ہے سیدھے راستے پر یعنی یہ بستی گزرنے والوں کے لیے ایک عام گزرگاہ پر واقع ہے اور جس کسی کا اس علاقے میں آنا جانا ہے وہ اس جگہ کو پہچانتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وإنَّها}؛ أي: مدينة قوم لوط {لَبسبيل مُقيم}: للسالكين، يعرفه كلُّ مَنْ تردَّد في تلك الدِّيار.