تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ قَالَ ﴾ لوط علیہ السلام نے معاملے کی شدت کی بنا پر ان سے کہا: ﴿ هٰۤؤُلَآءِبَنٰتِیْۤاِنْكُنْتُمْفٰعِلِیْ٘نَ ﴾”یہ میری بیٹیاں حاضر ہیں اگر تم کو کرنا ہے“ مگر انھوں نے جناب لوط علیہ السلام کے اس قول کی کوئی پروا نہ کی۔(بیٹیوں سے مراد، ان کی بیویاں ہیں، یعنی اپنی بیویوں سے اپنی جنسی خواہش پوری کرو۔ پیغمبر بمنزلہ باپ کے ہوتا ہے، اس لیے ان کی بیویوں کو اپنی بیٹیاں کہا۔ یا یہ مطلب ہے کہ تم میری بیٹیوں سے نکاح کر لو اور اپنی خواہش کی تسکین کا سامان کر لو، میں اپنی بیٹیاں تمھارے حبالۂ عقد میں دینے کو تیار ہوں۔ (ص۔ ی)
اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: ﴿ لَ٘عَمْرُكَاِنَّهُمْلَ٘فِیْسَكْرَتِهِمْیَعْمَهُوْنَ ﴾”آپ کی زندگی کی قسم، وہ اپنی مستی میں مدہوش ہیں “ اور یہ مستی فحش کام کی چاہت کی مستی ہے جس کے ہوتے ہوئے وہ کسی ملامت کی پروا نہیں کرتے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فَـ {قَال} لهم لوطٌ من شدَّة الأمر الذي أصابه: {هؤلاء بناتي إن كنتُم فاعلينَ}: فلم يبالوا بقوله، ولهذا قال الله لرسوله محمدٍ - صلى الله عليه وسلم -: {لَعَمْرُك إنَّهم لفي سكرتِهِم يعمهونَ}: وهذه السكرة هي سكرة محبَّة الفاحشة التي لا يُبالون معها بعذل ولا لوم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔