(آیت71){قَالَهٰۤؤُلَآءِبَنٰتِيْۤ:} اس آیت کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ ہود کی آیت (۷۸) کی تفسیر۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
71۔ 1 یعنی ان سے تم نکاح کرلو یا پھر اپنی قوم کی عورتوں کو اپنی بیٹیاں کہا، تم عورتوں سے نکاح کرلو یا جن کے حبالہ عقد میں عورتیں ہیں، وہ ان سے اپنی خواہش پوری کریں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
71۔ لوط نے کہا: ”اگر تمہیں کچھ کرنا ہے تو یہ میری [36] بیٹیاں موجود ہیں“
[36] سیدنا لوطؑ کی بیٹیاں:۔
اس کا ایک مطلب تو وہی ہے جو آیت کے ظاہری الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ اپنی بیٹیوں کو ان کے نکاح میں دینے پر تیار ہو گئے حالانکہ پہلے یہی لوگ ان بیٹیوں کا رشتہ طلب کرتے تھے اور آپ نے ان لوگوں کی بد کرداری دیکھ کر رشتہ دینے سے انکار کر دیا تھا اور دوسرا مطلب ہے کہ ہر نبی اپنی قوم کا روحانی باپ ہوتا ہے لہٰذا آپ قوم کی بیٹیوں کے بھی روحانی باپ تھے اور آپ نے انھیں کہا یہ تھا کہ تمہارے گھروں میں جو تمہاری بیویاں ہیں وہ بھی میری بیٹیاں ہیں۔ اگر اتنی ہی تم پر شہوت غالب آ رہی ہے تو ان سے پوری کر لو۔ اس آیت سے ہرگز یہ مطلب نہیں لیا جا سکتا کہ آپ نے بد کاری کے لیے اپنی بیٹیاں پیش کر دی تھیں۔ کیونکہ سیدنا لوطؑ جس بدی کے خلاف جہاد کر رہے تھے اسی طرح کی ایک دوسری برائی کا خود ارتکاب کیسے کر سکتے تھے؟ بالخصوص اس صورت میں کہ آپ اللہ کے نبی تھے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ قَالَ ﴾ لوط علیہ السلام نے معاملے کی شدت کی بنا پر ان سے کہا: ﴿ هٰۤؤُلَآءِبَنٰتِیْۤاِنْكُنْتُمْفٰعِلِیْ٘نَ ﴾”یہ میری بیٹیاں حاضر ہیں اگر تم کو کرنا ہے“ مگر انھوں نے جناب لوط علیہ السلام کے اس قول کی کوئی پروا نہ کی۔(بیٹیوں سے مراد، ان کی بیویاں ہیں، یعنی اپنی بیویوں سے اپنی جنسی خواہش پوری کرو۔ پیغمبر بمنزلہ باپ کے ہوتا ہے، اس لیے ان کی بیویوں کو اپنی بیٹیاں کہا۔ یا یہ مطلب ہے کہ تم میری بیٹیوں سے نکاح کر لو اور اپنی خواہش کی تسکین کا سامان کر لو، میں اپنی بیٹیاں تمھارے حبالۂ عقد میں دینے کو تیار ہوں۔ (ص۔ ی)
اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: ﴿ لَ٘عَمْرُكَاِنَّهُمْلَ٘فِیْسَكْرَتِهِمْیَعْمَهُوْنَ ﴾”آپ کی زندگی کی قسم، وہ اپنی مستی میں مدہوش ہیں “ اور یہ مستی فحش کام کی چاہت کی مستی ہے جس کے ہوتے ہوئے وہ کسی ملامت کی پروا نہیں کرتے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فَـ {قَال} لهم لوطٌ من شدَّة الأمر الذي أصابه: {هؤلاء بناتي إن كنتُم فاعلينَ}: فلم يبالوا بقوله، ولهذا قال الله لرسوله محمدٍ - صلى الله عليه وسلم -: {لَعَمْرُك إنَّهم لفي سكرتِهِم يعمهونَ}: وهذه السكرة هي سكرة محبَّة الفاحشة التي لا يُبالون معها بعذل ولا لوم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔