تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحجر (15) — آیت 70

قَالُوۡۤا اَوَ لَمۡ نَنۡہَکَ عَنِ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۷۰﴾
انھوں نے کہا اور کیا ہم نے تجھے سارے جہانوں سے منع نہیں کیا۔ En
وہ بولے کیا ہم نے تم کو سارے جہان (کی حمایت وطرفداری) سے منع نہیں کیا
En
وه بولے کیا ہم نے تجھے دنیا بھر (کی ٹھیکیداری) سے منع نہیں کر رکھا؟ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ قَالُوْۤا انھوں نے لوط علیہ السلام کے قول مجھے رسوا نہ کرو کے جواب میں بس یہی کہا: ﴿ اَوَ لَمْ نَنْهَكَ عَنِ الْ٘عٰلَمِیْنَ کیا ہم نے تجھے منع نہیں کیا جہان کی حمایت کرنے سے یعنی ان کی مہمان نوازی وغیرہ کرنے سے۔ پس ہم نے تجھے ان باتوں سے ڈرایا ہے اور جس نے ڈرا دیا ہے وہ بریٔ الذمہ ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فَـ {قَالوا} له جواباً عن قوله: {ولا تخزونِ} فقط: {أولم نَنْهَكَ عن العالمين}: أن تضيِّفهم، فنحن قد أنذرناك، ومن أنذر؛ فقد أعذر.