تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحجر (15) — آیت 66

وَ قَضَیۡنَاۤ اِلَیۡہِ ذٰلِکَ الۡاَمۡرَ اَنَّ دَابِرَ ہٰۤؤُلَآءِ مَقۡطُوۡعٌ مُّصۡبِحِیۡنَ ﴿۶۶﴾
اور ہم نے اس کی طرف اس بات کی وحی کر دی کہ ان لوگوں کی جڑ صبح ہوتے ہی کاٹ دی جانے والی ہے۔ En
اور ہم نے لوط کی طرف وحی بھیجی کہ ان لوگوں کی جڑ صبح ہوتے ہوتے کاٹ دی جائے گی
En
اور ہم نے اس کی طرف اس بات کا فیصلہ کر دیا کہ صبح ہوتے ہوتے ان لوگوں کی جڑیں کاٹ دی جائیں گی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَقَضَیْنَاۤ اِلَیْهِ ذٰلِكَ الْاَمْرَ اور مقرر کر دی ہم نے اس کی طرف یہ بات یعنی ہم نے اسے ایسی خبر سے آگاہ کیا جس میں تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں ﴿اَنَّ دَابِرَ هٰۤؤُلَآءِ مَقْطُوْعٌ مُّصْبِحِیْنَ ان لوگوں کی جڑ صبح ہوتے ہوتے کاٹ دی جائے گی۔ یعنی صبح سویرے عذاب انھیں آ لے گا اور ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وقضَيْنا إليه ذلك}؛ أي: أخبرناه خبراً لا مَثْنَوِيَّة فيه، {أنَّ دابرَ هؤلاء مقطوعٌ مصبحينَ}؛ أي: سيصبِّحهم العذابُ الذي يجتاحهم، ويستأصلهم.