پس تو اپنے گھر والوں کو رات کے کسی حصے میں لے چل اور خود ان کے پیچھے پیچھے چل اور تم میںسے کوئی مڑ کر نہ دیکھے اور چلے جائو جہاں تمھیں حکم دیا جاتا ہے۔
En
تو آپ کچھ رات رہے سے اپنے گھر والوں کو لے نکلیں اور خود ان کے پیچھے چلیں اور اور آپ میں سے کوئی شخص مڑ کر نہ دیکھے۔ اور جہاں آپ کو حکم ہو وہاں چلے جایئے
اب تو اپنے خاندان سمیت اس رات کے کسی حصہ میں چل دے اور آپ ان کے پیچھے رہنا، اور (خبردار) تم میں سے کوئی (پیچھے) مڑکر بھی نہ دیکھے اور جہاں کا تمہیں حکم کیا جارہا ہے وہاں چلے جانا
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ؔ فَاَسْرِبِاَهْلِكَبِقِطْعٍمِّنَالَّیْلِ ﴾”پس لے نکل اپنے گھر والوں کو کچھ رات رہے سے“ یعنی رات کے اوقات میں جب لوگ سو رہے ہوں اور کسی کو آپ کے نکل جانے کا علم نہ ہو ﴿ وَاتَّ٘بِـعْاَدْبَ٘ارَهُمْوَلَایَلْتَفِتْمِنْكُمْاَحَدٌ ﴾”اور تو ان کے پیچھے چل اور تم میں سے کوئی مڑ کر نہ دیکھے“ یعنی جلدی سے نکل جاؤ ﴿ وَّامْضُوْاحَیْثُتُؤْمَرُوْنَ ﴾”اور چلے جاؤ جہاں تم کو حکم دیا جاتا ہے“ گویا ان کے ساتھ کوئی رہبر تھا جو ان کی راہنمائی کرتا تھا کہ انھیں کہاں جانا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فأسْرِ بأهلك بقِطْع من الليل}؛ أي: في أثنائه حين تنام العيون ولا يدري أحدٌ عن مَسْراك. {ولا يَلْتَفِتْ منكم أحدٌ}؛ أي: بل بادروا وأسرعوا، {وامْضوا حيثُ تُؤْمَرون}: كأنَّ معهم دليلاً يدلُّهم على أين يتوجَّهون.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔