تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحجر (15) — آیت 67

وَ جَآءَ اَہۡلُ الۡمَدِیۡنَۃِ یَسۡتَبۡشِرُوۡنَ ﴿۶۷﴾
اور اس شہر کے رہنے والے اس حال میں آئے کہ بہت خوش ہو رہے تھے۔ En
اور اہل شہر (لوط کے پاس) خوش خوش (دوڑے) آئے
En
اور شہر والے خوشیاں مناتے ہوئے آئے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَجَآءَ اَهْلُ الْمَدِیْنَةِ اور اہل شہر آئے۔ یعنی اس شہر کے لوگ آئے جس میں لوط علیہ السلام رہتے تھے۔ ﴿ یَسْتَبْشِرُوْنَ۠ خوشیاں کرتے یعنی لوط علیہ السلام کے خوبصورت مہمانوں کی آمد اور ان پر انھیں قدرت حاصل ہونے کی بنا پر وہ ایک دوسرے کو خوشخبری دیتے تھے۔ ان کا مقصد ان کے ساتھ بدفعلی کرنے کا تھا۔ پس وہ آئے اور حضرت لوط علیہ السلام کے گھر پہنچ گئے اور ان کے مہمانوں کے بارے میں ان کے ساتھ جھگڑنے لگے اور لوط علیہ السلام نے ان سے بچنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا:
﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ ضَیْـفِیْ فَلَا تَفْضَحُوْنِ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَلَا تُخْزُوْنِ یہ میرے مہمان ہیں مجھے رسوا نہ کرو اور اللہ سے ڈرو اور میری رسوائی کا سامان نہ کرو۔ یعنی اس بارے میں سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا خوف کرو، اگر اللہ تعالیٰ کا خوف نہیں تو میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرو۔ انتہائی گندے کام کے ذریعے سے ان کی ہتک حرمت کرنے سے باز آ جاؤ۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وجاء أهلُ المدينة}؛ أي: المدينة التي فيها لوطٌ، {يستبشرونَ}؛ أي: يبشِّر بعضُهم بعضاً بأضياف لوطٍ وصباحةِ وجوههم واقتدارهم عليهم، وذلك لقصدِهِم فعلَ الفاحشة فيهم، فجاؤوا حتى وصلوا إلى بيت لوطٍ، فجعلوا يعالجون لوطاً على أضيافه، ولوطٌ يستعيذُ منهم ويقولُ: {إنَّ هؤلاء ضَيْفي فلا تَفْضَحونِ. واتَّقوا الله ولا تُخْزُونِ}؛ أي: راقبوا الله أول ذلك، وإن كان ليس فيكم خوفٌ من الله؛ فلا تفضحوني في أضيافي، وتنتَهكِوا منهم الأمر الشنيع.