تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحجر (15) — آیت 63

قَالُوۡا بَلۡ جِئۡنٰکَ بِمَا کَانُوۡا فِیۡہِ یَمۡتَرُوۡنَ ﴿۶۳﴾
انھوں نے کہا بلکہ ہم تیرے پاس وہ چیز لے کر آئے ہیں جس میں و ہ شک کیا کرتے تھے۔ En
وہ بولے کہ نہیں بلکہ ہم آپ کے پاس وہ چیز لے کر آئے ہیں جس میں لوگ شک کرتے تھے
En
انہوں نے کہا نہیں بلکہ ہم تیرے پاس وه چیز ﻻئے ہیں جس میں یہ لوگ شک شبہ کر رہے تھے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ بَلْ جِئْنٰكَ بِمَا كَانُوْا فِیْهِ یَمْتَرُوْنَ ہم آپ کے پاس وہ چیز لے کر آئے ہیں جس میں لوگ شک کرتے تھے۔ یعنی ہم ان پر وہ عذاب نازل کرنے کے لیے آپ کے پاس آئے ہیں جس کے بارے میں وہ شک کیا کرتے تھے اور جب آپ ان کو عذاب کی وعید سناتے تھے تو آپ کو جھٹلایا کرتے تھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فَـ {قالوا بل جِئْناك بما كانوا فيه يَمْتَرون}؛ أي: جئناك بعذابهم الذي كانوا يشكُّون فيه ويكذِّبونك حين تَعِدُهم به.