تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحجر (15) — آیت 56

قَالَ وَ مَنۡ یَّقۡنَطُ مِنۡ رَّحۡمَۃِ رَبِّہٖۤ اِلَّا الضَّآلُّوۡنَ ﴿۵۶﴾
اس نے کہا اور گمراہوں کے سوا اپنے رب کی رحمت سے کون ناامید ہوتا ہے۔ En
(ابراہیم نے) کہا کہ خدا کی رحمت سے (میں مایوس کیوں ہونے لگا اس سے) مایوس ہونا گمراہوں کا کام ہے
En
کہا اپنے رب تعالیٰ کی رحمت سے ناامید تو صرف گمراه اور بہکے ہوئے لوگ ہی ہوتے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

ابراہیم علیہ السلام نے جواب میں فرمایا: ﴿ وَمَنْ یَّؔقْنَطُ مِنْ رَّحْمَةِ رَبِّهٖۤ اِلَّا الضَّآلُّوْنَ رب کی رحمت سے ناامید گمراہ لوگ ہی ہوتے ہیں جو اپنے رب اور اس کی قدرت کاملہ سے لاعلم ہیں لیکن جسے اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور علم عظیم سے نواز رکھا ہو، مایوسی اس تک راہ نہیں پا سکتی کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے حصول کے لیے اسباب و وسائل اور طریقوں کی کثرت کو خوب جانتا ہے، پھر جب فرشتوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بیٹے کی بشارت دی تو انھوں نے جان لیا کہ ان کو نہایت اہم کام پر بھیجا گیا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فأجابهم إبراهيمُ بقوله: {ومَن يَقْنَطُ من رحمةِ ربِّه إلاَّ الضَّالُّون}: الذين لا علم لهم بربِّهم وكمال اقتداره، وأما مَنْ أنعم الله عليه بالهداية والعلم العظيم؛ فلا سبيل إلى القنوط إليه؛ لأنَّه يعرف من كَثْرة الأسباب والوسائل والطرق لرحمة الله شيئاً كثيراً.

ثم لما بشَّروه بهذه البشارة؛ عَرَفَ أنَّهم مرسلون لأمرٍ مهمٍّ.