تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحجر (15) — آیت 55

قَالُوۡا بَشَّرۡنٰکَ بِالۡحَقِّ فَلَا تَکُنۡ مِّنَ الۡقٰنِطِیۡنَ ﴿۵۵﴾
انھوں نے کہا ہم نے تجھے حق کی خوشخبری دی ہے، سو تو نا امید ہونے والوں سے نہ ہو۔ En
(انہوں نے) کہا ہم آپ کو سچی خوشخبری دیتے ہیں آپ مایوس نہ ہوئیے
En
انہوں نے کہا ہم آپ کو بالکل سچی خوشخبری سناتے ہیں آپ مایوس لوگوں میں شامل نہ ہوں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ قَالُوْا بَشَّرْنٰكَ بِالْحَقِّ انھوں نے کہا، ہم نے آپ کو سچی خوش خبری سنائی ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے خاص طور پر… اے نبوت کے گھر والو! تم پر اللہ کی رحمت اور برکتیں ہیں … تمھیں تو اللہ کے فضل و احسان کو نادر و ناممکن نہیں سمجھنا چاہیے۔ ﴿ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْقٰنِطِیْنَ پس آپ ناامیدوں میں سے نہ ہوں یعنی آپ ان لوگوں میں سے نہ ہو جائیں جو بھلائی کے وجود کو مستبعد سمجھتے ہیں۔ بلکہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کی عنایات و احسان کے امیدوار رہیے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قالوا بشَّرْناك بالحقِّ}: الذي لا شكَّ فيه؛ لأنَّ الله على كلِّ شيءٍ قديرٌ، وأنتم بالخصوص يا أهل هذا البيت، رحمة الله وبركاته عليكم؛ فلا يُسْتَغْرَبُ فضل الله وإحسانُه إليكم. {فلا تَكُنْ من القانطينَ}: الذين يستبعدون وجودَ الخير، بل لا تزال راجياً لفضل الله وإحسانِهِ وبرِّه وامتنانه.