تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
ابراہیم علیہ السلام نے اس خوش خبری پر متعجب ہو کر کہا ﴿ اَبَشَّرْتُمُوْنِیْ ﴾”کیا تم مجھے (بیٹے کی) خوشخبری دیتے ہو۔“﴿ عَلٰۤىاَنْمَّسَّنِیَالْكِبَرُ ﴾”جبکہ پہنچ چکا مجھ کو بڑھاپا“ بنابریں وہ اولاد ہونے کے بارے میں ایک قسم کی مایوسی سے دوچار تھے ﴿ فَبِمَتُ٘بَشِّ٘رُوْنَ ﴾”پس کس وجہ سے تم مجھے خوشخبری دیتے ہو؟“ حالانکہ اولاد ہونے کے اسباب تو معدوم ہو چکے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{قال} لهم متعجِّباً من هذه البشارة: {أبشَّرْتُموني}: بالولد {على أن مَسَّنِيَ الكِبَرُ}: وصار نوع إياس منه. {فبم تبشِّرونِ}؛ أي: على أيِّ وجهٍ تبشِّرون وقد عدمت الأسباب؟!
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔