تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحجر (15) — آیت 54

قَالَ اَبَشَّرۡتُمُوۡنِیۡ عَلٰۤی اَنۡ مَّسَّنِیَ الۡکِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُوۡنَ ﴿۵۴﴾
اس نے کہا کیا تم نے مجھے اس کے باوجودخوشخبری دی ہے کہ مجھے بڑھاپا آپہنچا ہے، تو تم کس بات کی خوشخبری دیتے ہو؟ En
بولے کہ جب مجھے بڑھاپے نے آ پکڑا تو تم خوشخبری دینے لگے۔ اب کاہے کی خوشخبری دیتے ہو
En
کہا، کیا اس بڑھاپے کے آجانے کے بعد تم مجھے خوشخبری دیتے ہو! یہ خوشخبری تم کیسے دے رہے ہو؟ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

ابراہیم علیہ السلام نے اس خوش خبری پر متعجب ہو کر کہا ﴿ اَبَشَّرْتُمُوْنِیْ کیا تم مجھے (بیٹے کی) خوشخبری دیتے ہو۔ ﴿ عَلٰۤى اَنْ مَّسَّنِیَ الْكِبَرُ جبکہ پہنچ چکا مجھ کو بڑھاپا بنابریں وہ اولاد ہونے کے بارے میں ایک قسم کی مایوسی سے دوچار تھے ﴿ فَبِمَ تُ٘بَشِّ٘رُوْنَ پس کس وجہ سے تم مجھے خوشخبری دیتے ہو؟ حالانکہ اولاد ہونے کے اسباب تو معدوم ہو چکے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قال} لهم متعجِّباً من هذه البشارة: {أبشَّرْتُموني}: بالولد {على أن مَسَّنِيَ الكِبَرُ}: وصار نوع إياس منه. {فبم تبشِّرونِ}؛ أي: على أيِّ وجهٍ تبشِّرون وقد عدمت الأسباب؟!