تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحجر (15) — آیت 53

قَالُوۡا لَا تَوۡجَلۡ اِنَّا نُبَشِّرُکَ بِغُلٰمٍ عَلِیۡمٍ ﴿۵۳﴾
انھوں نے کہا ڈر نہیں، بے شک ہم تجھے ایک بہت علم والے لڑکے کی خوش خبری دیتے ہیں۔ En
(مہمانوں نے) کہا کہ ڈریئے نہیں ہم آپ کو ایک دانشمند لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں
En
انہوں نے کہا ڈرو نہیں، ہم تجھے ایک صاحب علم فرزند کی بشارت دیتے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ لَا تَوْجَلْ اِنَّا نُبَشِّ٘رُكَ بِغُلٰ٘مٍ عَلِیْمٍ ڈریں مت، ہم آپ کو ایک سمجھ دار لڑکے کی خوش خبری سناتے ہیں یہاں لڑکے سے مراد اسحاق علیہ السلام ہیں۔ یہ بشارت اس بات کو متضمن ہے کہ وہ بچہ جس کی خوشخبری دی گئی تھی، لڑکا تھا، لڑکی نہ تھا، یہاں علیم سے مراد ہے کثیر العلم (بہت علم و فہم والا) ایک اور آیت کریمہ میں یوں آتا ہے ﴿ وَبَشَّرْنٰهُ بِـاِسْحٰؔقَ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰؔلِحِیْنَ (الصافات:37؍ 112) اور ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی کہ وہ نبی اور صالح لوگوں میں سے ہوں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{لا تَوْجَلْ إنَّا نبشِّرك بغلام عليم}: وهو إسحاق عليه الصلاة والسلام. تضمنت هذه البشارة بأنَّه ذكرٌ لا أنثى. {عليم}؛ أي: كثير العلم. وفي الآية الأخرى: {وبشَّرْناه بإسحاقَ نبيًّا من الصَّالحينَ}.