تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحجر (15) — آیت 52

اِذۡ دَخَلُوۡا عَلَیۡہِ فَقَالُوۡا سَلٰمًا ؕ قَالَ اِنَّا مِنۡکُمۡ وَجِلُوۡنَ ﴿۵۲﴾
جب وہ اس کے پاس داخل ہوئے تو انھوں نے سلام کہا، اس نے کہا ہم تو تم سے ڈرنے والے ہیں۔ En
جب وہ ابراہیم کے پاس آئے تو سلام کہا۔ (انہوں نے) کہا کہ ہمیں تو تم سے ڈر لگتا ہے
En
کہ جب انہوں نے ان کے پاس آکر سلام کہا تو انہوں نے کہا کہ ہم کو تو تم سے ڈر لگتا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْهِ فَقَالُوْا سَلٰ٘مًا جب وہ آئے ان کے گھر میں تو کہا سلام یعنی انھوں نے ابراہیم علیہ السلام کو سلام کیا اور ابراہیم علیہ السلام نے ان کو سلام کا جواب دیا اور کہا ﴿ قَالَ اِنَّا مِنْكُمْ وَجِلُوْنَ ہم تم لوگوں سے خائف ہیں۔ اور خوف زدہ ہونے کی وجہ یہ تھی کہ جب فرشتے ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئے تو آپ نے ان کو مہمان سمجھا اور آپ جلدی سے گھر گئے اور ان کی مہمان نوازی کے لیے بھنا ہوا بچھڑا لے آئے اور ان کی خدمت میں پیش کر دیا۔ جب آپ نے دیکھا کہ مہمانوں کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑھ رہے تو آپ نے ان کو چور وغیرہ سمجھا اور خوف زدہ ہو گئے۔﴿ قَالُوْا فرشتوں نے ان سے کہا:
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{إذ دخلوا عليه فقالوا سلاماً}؛ أي: سلَّموا عليه فردَّ عليهم، {قال إنَّا منكم وَجِلونَ}؛ أي: خائفون؛ لأنَّه لما دخلوا عليه، وحسبهم ضيوفاً؛ ذهب مسرعاً إلى بيته، فأحضر لهم ضيافتهم عجلاً حنيذاً، فقدَّمه إليهم، فلما رأى أيدِيَهم لا تصِلُ إليه؛ خاف منهم أن يكونوا لصوصاً أو نحوهم فقالوا له: