تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحجر (15) — آیت 51

وَ نَبِّئۡہُمۡ عَنۡ ضَیۡفِ اِبۡرٰہِیۡمَ ﴿ۘ۵۱﴾
اور انھیں ابراہیم کے مہمانوں کے بارے میں خبر دے۔ En
اور ان کو ابراہیم کے مہمانوں کا احوال سنادو
En
انہیں ابراہیم کے مہمانوں کا (بھی) حال سنا دو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے: ﴿ وَنَبِّئْهُمْ عَنْ ضَیْفِ اِبْرٰهِیْمَ ان کو ابراہیم کے مہمانوں کی بابت خبر دیں یعنی اس عجیب قصے کے بارے میں ان کو آگاہ کیجیے کیونکہ آپ کے ان کے سامنے انبیاء کرام کے قصے اور ان کے حالات بیان کرنے سے، ان کو عبرت حاصل ہو گی اور وہ ان کی پیروی کریں گے… خاص طور پر اللہ تعالیٰ کے ابراہیم خلیل علیہ السلام کا قصہ، جن کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم ان کی ملت کی پیروی کریں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مہمانوں سے مراد وہ مکرم فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا مہمان بنا کر ان کو اعزاز بخشا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى لنبيِّه محمد - صلى الله عليه وسلم -: {ونبِّئْهم عن ضيفِ إبراهيم}؛ أي: عن تلك القصَّة العجيبة؛ فإنَّ في قصِّك عليهم أنباء الرسل وما جرى لهم ما يوجب لهم العبرةَ والاقتداء بهم، خصوصاً إبراهيم الخليل، الذي أمرنا اللهُ أن نتَّبِعَ ملَّته، وضيفه هم الملائكة الكرام، أكْرَمَهُ الله بأنْ جَعَلَهم أضيافه.