(آیت51){وَنَبِّئْهُمْعَنْضَيْفِاِبْرٰهِيْمَ: ”ضَيْفِ“} یہ {”ضَافَيَضِيْفُ“} کا مصدر ہے، جو مائل ہونے کے معنی میں آتا ہے، مہمان چونکہ کسی کی طرف مائل ہو کر ہی آتا ہے، اس لیے اسے {”ضَيْفٌ“} کہتے ہیں، یہ واحد، تثنیہ اور جمع سبھی کے لیے {”ضَيْفٌ“} واحد ہی آتا ہے، جیسا کہ اس آیت میں جمع کے لیے آیا ہے بعض لوگ اس کی جمع {”اَضْيَافٌ“} یا {”ضُيُوْفٌ“} بھی استعمال کرتے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
51۔ نیز آپ انھیں ابراہیم کے مہمانوں [28] کا حال بتائیے
[28] سیدنا ابراہیم کے مہمان فرشتے:۔
یہ مہمان فرشتے تھے جو اصل میں تو لوطؑ کی قوم کی طرف بھیجے جا رہے تھے کہ ان کی بستی کو تباہ کر ڈالیں۔ پہلے وہ سیدنا ابراہیمؑ کی طرف آئے اور انھیں مہمان اس لیے کہا گیا کہ وہ اجنبی صورت میں آئے تھے وہ انھیں ایک بیٹے یعنی سیدنا اسحاقؑ کی بشارت دینے آئے تھے۔ یہ واقعہ پہلے سورۃ ہود کی آیت نمبر 69 تا 74 میں بھی گزر چکا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
فرشتے بصورت انسان ٭٭
لفظ «ضَیْف» واحد اور جمع دونوں پر بولا جاتا ہے۔ جیسے «زور» اور «سفر» ۔ یہ فرشتے تھے جو بصورت انسان سلام کر کے خلیل اللہ علیہ السلام کے پاس آئے تھے۔ آپ نے بچھڑا کاٹ کر اس کا گوشت بھون کر ان مہمانوں کے سامنے لا رکھا۔ جب دیکھا کہ وہ ہاتھ نہیں ڈالتے تو ڈر گئے اور کہا کہ ہمیں تو آپ سے ڈر لگنے لگا۔ فرشتوں نے اطمینان دلایا کہ ڈرو نہیں، پھر اسحاق علیہ السلام کے پیدا ہونے کی بشارت سنائی۔ جیسے کہ سورۃ ھود میں ہے۔ تو آپ علیہ السلام نے اپنے اور اپنی بیوی صاحبہ کے بڑھاپے کو سامنے رکھ کر اپنا تعجب دور کرنے اور وعدے کو ثابت کرنے کے لیے پوچھا کہ کیا اس حالت میں ہمارے ہاں بچہ ہو گا؟ فرشتوں نے دوبارہ زور دار الفاظ میں وعدے کو دہرایا اور ناامیدی سے دور رہنے کی تعلیم کی۔ تو آپ علیہ السلام نے اپنے عقیدے کا اظہار کر دیا کہ ”میں مایوس نہیں ہوں۔ ایمان رکھتا ہوں کہ میرا رب اس سے بھی بڑی باتوں پر قدرت کاملہ رکھتا ہے۔“
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے: ﴿ وَنَبِّئْهُمْعَنْضَیْفِاِبْرٰهِیْمَ ﴾”ان کو ابراہیم کے مہمانوں کی بابت خبر دیں “ یعنی اس عجیب قصے کے بارے میں ان کو آگاہ کیجیے کیونکہ آپ کے ان کے سامنے انبیاء کرام کے قصے اور ان کے حالات بیان کرنے سے، ان کو عبرت حاصل ہو گی اور وہ ان کی پیروی کریں گے… خاص طور پر اللہ تعالیٰ کے ابراہیم خلیل علیہ السلام کا قصہ، جن کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم ان کی ملت کی پیروی کریں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مہمانوں سے مراد وہ مکرم فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا مہمان بنا کر ان کو اعزاز بخشا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى لنبيِّه محمد - صلى الله عليه وسلم -: {ونبِّئْهم عن ضيفِ إبراهيم}؛ أي: عن تلك القصَّة العجيبة؛ فإنَّ في قصِّك عليهم أنباء الرسل وما جرى لهم ما يوجب لهم العبرةَ والاقتداء بهم، خصوصاً إبراهيم الخليل، الذي أمرنا اللهُ أن نتَّبِعَ ملَّته، وضيفه هم الملائكة الكرام، أكْرَمَهُ الله بأنْ جَعَلَهم أضيافه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔