تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحجر (15) — آیت 5

مَا تَسۡبِقُ مِنۡ اُمَّۃٍ اَجَلَہَا وَ مَا یَسۡتَاۡخِرُوۡنَ ﴿۵﴾
کوئی امت اپنے مقرر وقت سے نہ آگے بڑھتی ہے اور نہ وہ پیچھے رہتے ہیں۔ En
کوئی جماعت اپنی مدت (وفات) سے نہ آگے نکل سکتی ہے نہ پیچھے رہ سکتی ہے
En
کوئی گروه اپنی موت سے نہ آگے بڑھتا ہے نہ پیچھے رہتا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّؔةٍ اَجَلَهَا وَمَا یَسْتَاْخِرُوْنَ۠ کوئی قوم اپنے وقت مقررہ سے پہلے ہلاک ہو سکتی ہے نہ پیچھے رہ سکتی ہے۔ ورنہ خواہ کتنی ہی تاخیر ہو گناہوں کی تاثیر کا واقع ہونا لابدی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ما تسبِقُ من أمَّةٍ أجَلَها وما يستأخِرون}: وإلاَّ؛ فالذنوب لا بدَّ من وقوع أثرها وإن تأخَّر.