تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحجر (15) — آیت 6

وَ قَالُوۡا یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡ نُزِّلَ عَلَیۡہِ الذِّکۡرُ اِنَّکَ لَمَجۡنُوۡنٌ ؕ﴿۶﴾
اور انھوں نے کہا اے وہ شخص جس پر یہ نصیحت نازل کی گئی ہے! بے شک توُ تو دیوانہ ہے۔ En
اور کفار کہتے ہیں کہ اے شخص جس پر نصیحت (کی کتاب) نازل ہوئی ہے تُو تو دیوانہ ہے
En
انہوں نے کہا کہ اے وه شخص جس پر قرآن اتارا گیا ہے یقیناً تو تو کوئی دیوانہ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کرنے والے کفار نے تمسخر اور استہزا کے طور پر کہا۔ ﴿ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْ نُزِّلَ عَلَیْهِ الذِّكْرُ اے وہ شخص کہ اترا ہے اس پر قرآن یعنی تیرے زعم کے مطابق ﴿ اِنَّكَ لَمَجْنُوْنٌؔ بے شک تو دیوانہ ہے کیونکہ تو سمجھتا ہے کہ محض تیرے کہنے پر ہم تیری پیروی کرنے لگ جائیں گے اور اس مذہب کو چھوڑ دیں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: وقال المكذبون لمحمِّد - صلى الله عليه وسلم - استهزاءً وسخريةً: {يا أيها الذي نُزِّلَ عليه الذِّكر}: على زعمك، {إنَّك لمجنون}: إذ تظنُّ أنا سنتَّبعك ونترك ما وجدنا عليه آباءنا لمجرَّد قولك.