تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کرنے والے کفار نے تمسخر اور استہزا کے طور پر کہا۔ ﴿ یٰۤاَیُّهَاالَّذِیْنُزِّلَعَلَیْهِالذِّكْرُ ﴾”اے وہ شخص کہ اترا ہے اس پر قرآن“ یعنی تیرے زعم کے مطابق ﴿ اِنَّكَلَمَجْنُوْنٌؔ ﴾”بے شک تو دیوانہ ہے“ کیونکہ تو سمجھتا ہے کہ محض تیرے کہنے پر ہم تیری پیروی کرنے لگ جائیں گے اور اس مذہب کو چھوڑ دیں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: وقال المكذبون لمحمِّد - صلى الله عليه وسلم - استهزاءً وسخريةً: {يا أيها الذي نُزِّلَ عليه الذِّكر}: على زعمك، {إنَّك لمجنون}: إذ تظنُّ أنا سنتَّبعك ونترك ما وجدنا عليه آباءنا لمجرَّد قولك.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔