تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحجر (15) — آیت 48

لَا یَمَسُّہُمۡ فِیۡہَا نَصَبٌ وَّ مَا ہُمۡ مِّنۡہَا بِمُخۡرَجِیۡنَ ﴿۴۸﴾
اس میں انھیں نہ کوئی تھکاوٹ چھوئے گی اور نہ وہ اس سے کبھی نکالے جانے والے ہیں۔ En
نہ ان کو وہاں کوئی تکلیف پہنچے گی اور نہ وہاں سے نکالے جائیں گے
En
نہ تو وہاں انہیں کوئی تکلیف چھو سکتی ہے اور نہ وه وہاں سے کبھی نکالے جائیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ لَا یَمَسُّهُمْ فِیْهَا نَصَبٌ نہیں پہنچے گی وہاں ان کو کوئی تھکاوٹ انھیں ظاہری تھکاوٹ لاحق ہو گی نہ باطنی اور یہ اس وجہ سے ہو گا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے انھیں ایسی حیات کاملہ سے نوازا ہو گا جو آفات کا اثر قبول نہیں کرے گی۔ ﴿ وَّمَا هُمْ مِّؔنْهَا بِمُخْرَجِیْنَ اور نہ وہ وہاں سے نکالے جائیں گے۔ یعنی وہ کسی بھی وقت جنت سے نکالے نہیں جائیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{لا يَمَسُّهم فيها نصبٌ}: لا ظاهرٌ ولا باطنٌ، وذلك لأنَّ الله يُنشئهم نشأةً وحياةً كاملةً لا تقبل شيئاً من الآفات. {وما هم منها بمُخْرَجين}: على سائر الأوقات.