تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ لَایَمَسُّهُمْفِیْهَانَصَبٌ ﴾”نہیں پہنچے گی وہاں ان کو کوئی تھکاوٹ“ انھیں ظاہری تھکاوٹ لاحق ہو گی نہ باطنی اور یہ اس وجہ سے ہو گا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے انھیں ایسی حیات کاملہ سے نوازا ہو گا جو آفات کا اثر قبول نہیں کرے گی۔ ﴿ وَّمَاهُمْمِّؔنْهَابِمُخْرَجِیْنَ ﴾”اور نہ وہ وہاں سے نکالے جائیں گے۔“ یعنی وہ کسی بھی وقت جنت سے نکالے نہیں جائیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{لا يَمَسُّهم فيها نصبٌ}: لا ظاهرٌ ولا باطنٌ، وذلك لأنَّ الله يُنشئهم نشأةً وحياةً كاملةً لا تقبل شيئاً من الآفات. {وما هم منها بمُخْرَجين}: على سائر الأوقات.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔