تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحجر (15) — آیت 49

نَبِّیٔۡ عِبَادِیۡۤ اَنِّیۡۤ اَنَا الۡغَفُوۡرُ الرَّحِیۡمُ ﴿ۙ۴۹﴾
میرے بندوں کو خبر دے دے کہ بے شک میں ہی بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والاہوں۔ En
(اے پیغمبر) میرے بندوں کو بتادو کہ میں بڑا بخشنے والا (اور) مہربان ہوں
En
میرے بندوں کو خبر دے دو کہ میں بہت ہی بخشنے واﻻ اور بڑا ہی مہربان ہوں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے فیصلوں، یعنی جنت اور جہنم کا ذکر فرمانے کے بعد، جو ترغیب و ترہیب کا موجب ہیں، اپنے ان اوصاف کا ذکر فرمایا جو جنت و جہنم کے موجب ہیں، چنانچہ فرمایا: ﴿ نَبِّئْ عِبَادِیْۤ میرے بندوں کو بتادو۔ یعنی میرے بندوں کو نہایت جزم کے ساتھ خبر دیجیے جس کی تائید دلائل کرتے ہوں کہ ﴿ اَنِّیْۤ اَنَا الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ میں بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہوں۔ کیونکہ جب بندے اللہ تعالیٰ کی رحمت کاملہ اور اس کی مغفرت کی معرفت حاصل کر لیں گے تو ان اسباب کے حصول میں کوشاں ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کی رحمت کاملہ تک پہنچاتے ہیں، گناہوں کے ارتکاب سے رک کر ان سے توبہ کریں گے تاکہ وہ اس کی مغفرت کے مستحق قرار پائیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولما ذكر ما يوجب الرغبة والرهبة من مفعولات الله من الجنة والنار؛ ذكر ما يوجب ذلك من أوصافه تعالى، فقال: {نبِّئ عبادي}؛ أي: أخبرهم خبراً جازماً مؤيداً بالأدلَّة، {أني أنا الغفورُ الرحيم}: فإنَّهم إذا عرفوا كمال رحمته ومغفرته؛ سعوا بالأسباب الموصلة لهم إلى رحمته، وأقلعوا عن الذُّنوب وتابوا منها؛ لينالوا مغفرتَهُ.