تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَنَزَعْنَامَافِیْصُدُوْرِهِمْمِّنْغِلٍّ ﴾”اور نکال ڈالیں گے ہم ان کے سینوں سے کینہ“ پس ان کے دل ہر قسم کے کینہ اور حسد سے سلامت، پاک صاف اور آپس میں محبت کرنے والے ہوں گے ﴿ اِخْوَانًاعَلٰىسُرُرٍمُّتَقٰبِلِیْ٘نَ ﴾”وہ آپس میں بھائی بھائی بن کر تختوں پر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوں گے۔“ یہ آیت کریمہ ان کے آپس میں ایک دوسرے کی زیارت کرنے، ان کو اکٹھے ہونے اور ان کے آپس میں حسن ادب پر دلالت کرتی ہے نیز یہ اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ وہ جنت میں ایک دوسرے سے پیٹھ پھیر کر نہیں بلکہ سجے تختوں پر تکیے لگا کر، موتی اور مختلف قسم کے جواہرات جڑے ہوئے بچھونوں پر، ایک دوسرے کے سامنے بیٹھیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ونزعنا ما في صدورهم من غِلٍّ}: فتبقى قلوبُهم سالمةً من كلِّ غلٍّ وحسدٍ متصافية متحابَّة، {إخواناً على سُرُر متقابلين}: دلَّ ذلك على تزاورهم واجتماعهم وحسن أدبهم فيما بينهم في كون كلٍّ منهم مقابلاً للآخر لا مستدبراً له، متكئين على تلك السُّرر المزيَّنة بالفرش واللؤلؤ وأنواع الجواهر.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔