تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحجر (15) — آیت 45

اِنَّ الۡمُتَّقِیۡنَ فِیۡ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوۡنٍ ﴿ؕ۴۵﴾
بے شک متقی لوگ باغوں اور چشموں میں ہوں گے۔ En
جو متقی ہیں وہ باغوں اور چشموں میں ہوں گے
En
پرہیزگار جنتی لوگ باغوں اور چشموں میں ہوں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہاں یہ ذکر فرمایا کہ آخرت میں اس کے دشمنوں یعنی ابلیس کے پیروکارں کو کیا سخت عذاب اور سزا دی جائے گی وہاں یہ بھی بتایا کہ وہ اپنے دوستوں کو کس فضل عظیم اوردائمی نعمتوں سے نوازے گا، چنانچہ فرمایا: ﴿ اِنَّ الْ٘مُتَّقِیْنَ بے شک پرہیزگار جو شیطان کی اطاعت، اس کے وسوسوں، گناہوں اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچتے ہیں ﴿ فِیْ جَنّٰتٍ وَّعُیُوْنٍ باغات اور چشموں میں ہوں گے جن میں درختوں کی تمام اقسام ہوں گی اور اس میں ہر وقت اور ہر قسم کے پکے ہوئے پھل ہوں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى: {إنَّ المتَّقين}: الذين اتَّقوا طاعة الشيطان وما يدعوهم إليه من جميع الذنوب والعصيان، {في جنَّاتٍ وعيون}: قد احتوت على جميع الأشجار، وأينعت فيها جميعُ الثمار اللذيذة في جميع الأوقات.