(آیت45) ➊ {”الْمُتَّقِيْنَ“”اِتَّقٰي“} باب افتعال سے اسم فاعل {”مُتَّقِيْ“} کی جمع ہے۔ مجرد {”وَقٰييَقِیْوَقَايَةً“} ہے، بمعنی بچانا اور نقصان دہ چیزوں سے محفوظ رکھنا۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۲)۔ ➋ {فِيْجَنّٰتٍوَّعُيُوْنٍ:} گمراہ لوگوں کے برے انجام کے ساتھ ہی متقی لوگوں کے بہترین انجام کا ذکر ہے اور یہ قرآن مجید کا عام انداز ہے کہ وہ دونوں پہلوؤں کا ساتھ ساتھ ذکر کرتا ہے۔ {”جَنّٰتٍ“”جَنَّةٌ“} کی جمع ہے، گھنے درختوں کا باغ جو زمین کو چھپائے ہوئے ہو۔ {”جَنَّيَجُنُّ“} کا معنی ہے چھپانا۔ {”عُيُوْنٍ“ } کا معنی ہے چشمے، مراد وہ چشمے ہیں جن سے جنت کی نہریں نکلتی ہیں، یا الگ چشمے، کیونکہ چشموں کا حسن ایک الگ ہی چیز ہے۔ سورۂ دہر میں کافور اور زنجبیل کی آمیزش والے چشمے، سلسبیل نامی چشمے اور سورۂ مطففین میں تسنیم نامی چشمے کی تفصیل ملاحظہ فرمائیں۔ یاد رہے کہ جنت سے مراد صرف باغ ہی نہیں، بلکہ سونے چاندی کی اینٹوں کے مکانات اور ایک ایک موتی یا لعل سے بنے ہوئے میلوں لمبے اور اونچے خیموں کے ساتھ ملے ہوئے باغات ہیں، جیسا کہ صحیح احادیث میں جنت کے اوصاف میں مذکور ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
45۔ 1 جہنم اور اہل جہنم کے بعد جنت اور اہل جنت کا تذکرہ کیا جا رہا ہے تاکہ جنت میں جانے کی ترغیب ہو۔ متقین سے مراد شرک سے بچنے والے موحدین ہیں اور بعض کے نزدیک وہ اہل ایمان جو معاصی سے بچتے رہے۔ جَنَّاتٍ سے مراد باغات اور عُیُونِ سے نہریں مراد ہیں۔ یہ باغات اور نہریں یا تو متقین کے لئے مشترکہ ہونگی، یا ہر ایک کے لئے الگ الگ باغات اور نہریں یا ایک ایک باغ اور نہر ہوگی۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
45۔ (بخلاف اس کے) پرہیزگار لوگ باغوں اور چشموں میں ہوں گے
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جنت میں کوئی بغض و کینہ نہ رہے گا ٭٭
دوزخیوں کا ذکر کر کے اب جنتیوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ ’ وہ باغات، نہروں اور چشموں میں ہوں گے ‘۔ ان کو بشارت سنائی جائے گی کہ اب تم ہر آفت سے بچ گئے ہر ڈر اور گھبراہٹ سے مطمئن ہو گئے نہ نعمتوں کے زوال کا ڈر، نہ یہاں سے نکالے جانے کا خطرہ نہ فنا نہ کمی۔ اہل جنت کے دلوں میں گو دنیوں رنجشیں باقی رہ گئی ہوں مگر جنت میں جاتے ہی ایک دوسرے سے مل کر تمام گلے شکوے ختم ہو جائیں گے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہاں یہ ذکر فرمایا کہ آخرت میں اس کے دشمنوں یعنی ابلیس کے پیروکارں کو کیا سخت عذاب اور سزا دی جائے گی وہاں یہ بھی بتایا کہ وہ اپنے دوستوں کو کس فضل عظیم اوردائمی نعمتوں سے نوازے گا، چنانچہ فرمایا: ﴿ اِنَّالْ٘مُتَّقِیْنَ ﴾”بے شک پرہیزگار“ جو شیطان کی اطاعت، اس کے وسوسوں، گناہوں اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچتے ہیں ﴿ فِیْجَنّٰتٍوَّعُیُوْنٍ ﴾”باغات اور چشموں میں ہوں گے“ جن میں درختوں کی تمام اقسام ہوں گی اور اس میں ہر وقت اور ہر قسم کے پکے ہوئے پھل ہوں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى: {إنَّ المتَّقين}: الذين اتَّقوا طاعة الشيطان وما يدعوهم إليه من جميع الذنوب والعصيان، {في جنَّاتٍ وعيون}: قد احتوت على جميع الأشجار، وأينعت فيها جميعُ الثمار اللذيذة في جميع الأوقات.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔