تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحجر (15) — آیت 44

لَہَا سَبۡعَۃُ اَبۡوَابٍ ؕ لِکُلِّ بَابٍ مِّنۡہُمۡ جُزۡءٌ مَّقۡسُوۡمٌ ﴿٪۴۴﴾
اس کے سات دروازے ہیں، ہر دروازے کے لیے ان میں سے ایک تقسیم کیا ہوا حصہ ہے۔ En
اس کے سات دروازے ہیں۔ ہر ایک دروازے کے لیے ان میں سے جماعتیں تقسیم کردی گئی ہیں
En
جس کے سات دروازے ہیں۔ ہر دروازے کے لیے ان کا ایک حصہ بٹا ہوا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ لَهَا سَبْعَةُ اَبْوَابٍ اس کے سات دروازے ہیں ہر دروازہ دوسرے دروازے سے نیچے ہو گا۔ ﴿ لِكُ٘لِّ بَ٘ابٍ مِّؔنْهُمْ ہر دروازے کے واسطے ان میں سے یعنی ابلیس کے پیروکاروں میں سے ﴿ جُزْءٌ مَّقْسُوْمٌ ایک حصہ ہے بانٹا ہوا یعنی ان کے اعمال کے مطابق۔ ﴿ فَكُبْكِبُوْا فِیْهَا هُمْ وَالْغَاوٗنَۙ۰۰ وَجُنُوْدُ اِبْلِیْسَ اَجْمَعُوْنَ (الشعراء: 26؍94۔95) پس ان کے معبود، یہ گمراہ لوگ اور ابلیس کے لشکر سب کے سب اوپر تلے جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{لها سبعةُ أبوابٍ}: كل باب أسفل من الآخر. {لكلِّ باب منهم}؛ أي: من أتباع إبليس {جزءٌ مقسومٌ}: بحسب أعمالهم؛ قال تعالى: {فَكُبْكِبوا فيها هم والغاوونَ وجنودُ إبليسَ أجمعونَ}.