تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحجر (15) — آیت 42

اِنَّ عِبَادِیۡ لَیۡسَ لَکَ عَلَیۡہِمۡ سُلۡطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الۡغٰوِیۡنَ ﴿۴۲﴾
بے شک میرے بندے، تیرا ان پر کوئی غلبہ نہیں، مگر جو گمراہوں میں سے تیرے پیچھے چلے۔ En
جو میرے (مخلص) بندے ہیں ان پر تجھے کچھ قدرت نہیں (کہ ان کو گناہ میں ڈال سکے) ہاں بد راہوں میں سے جو تیرے پیچھے چل پڑے
En
میرے بندوں پر تجھے کوئی غلبہ نہیں، لیکن ہاں جو گمراه لوگ تیری پیروی کریں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مگر جس نے تیری پیروی کی اور اللہ رحمن کی اطاعت کی بجائے تیری سرپرستی قبول کرنے اور تیری اطاعت کرنے پر راضی ہو گیا ﴿ مِنَ الْغٰوِیْنَ بہکے ہوؤں میں سے ہے (الغاوی) گمراہ (الراشد) ہدایت یافتہ کی ضد ہے اور اس شخص کو کہتے ہیں جو حق کو پہچان کر ترک کر دے اور (الضال) اس شخص کو کہتے ہیں جو حق کو جانے بغیر اس کو ترک کر دے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{إلاَّ من اتَّبعك}: فرضي بولايتك وطاعتك بدلاً من طاعة الرحمن، {من الغاوينَ}: والغاوي ضدُّ الراشد؛ فهو الذي عرف الحقَّ وتركه، والضالُّ الذي تركه من غير علم منه به.