تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحجر (15) — آیت 41

قَالَ ہٰذَا صِرَاطٌ عَلَیَّ مُسۡتَقِیۡمٌ ﴿۴۱﴾
فرمایا یہ راستہ ہے جو مجھ تک سیدھا ہے۔ En
(خدا نے) فرمایا کہ مجھ تک (پہنچنے کا) یہی سیدھا رستہ ہے
En
ارشاد ہوا کہ ہاں یہی مجھ تک پہنچنے کی سیدھی راه ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اِنَّ عِبَادِیْ لَ٘یْسَ لَكَ عَلَیْهِمْ سُلْطٰ٘نٌ جو میرے بندے ہیں ان پر تجھے کچھ قدرت نہیں۔ یعنی میرے بندوں پر تجھے کوئی اختیار نہیں کہ تو جہاں چاہے انھیں مختلف انواع کی گمراہیوں میں مبتلا کر دے اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں اور اس کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کی مدد فرماتا ہے اور انھیں شیطان سے بچاتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{إنَّ عبادي ليس لك عليهم سلطانٌ}: تميلهم به إلى ما تشاء من أنواع الضَّلالات بسبب عبوديَّتهم لربِّهم وانقيادهم لأوامره، أعانهم الله وعصمهم من الشيطان.