تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحجر (15) — آیت 40

اِلَّا عِبَادَکَ مِنۡہُمُ الۡمُخۡلَصِیۡنَ ﴿۴۰﴾
مگر ان میں سے تیرے وہ بندے جو خالص کیے ہوئے ہیں۔ En
ہاں ان میں جو تیرے مخلص بندے ہیں (ان پر قابو چلنا مشکل ہے)
En
سوائے تیرے ان بندوں کے جو منتخب کر لیے گئے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَالَ هٰؔذَا صِرَاطٌ عَلَیَّ مُسْتَقِیْمٌ یہ راستہ ہے مجھ تک سیدھا یعنی یہ راستہ معتدل، مجھ تک اور میرے عزت والے گھر تک پہنچاتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

قال الله: {هذا صراطٌ عليَّ مستقيمٌ}؛ أي: معتدلٌ موصلٌ إليَّ وإلى دار كرامتي.