تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحجر (15) — آیت 39

قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَغۡوَیۡتَنِیۡ لَاُزَیِّنَنَّ لَہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ وَ لَاُغۡوِیَنَّہُمۡ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿ۙ۳۹﴾
اس نے کہا اے میرے رب! چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا ہے، میں ضرور ہی ان کے لیے زمین میں مزین کروں گا اور ہر صورت میں ان سب کو گمراہ کردوں گا۔ En
(اس نے) کہا کہ پروردگار جیسا تونے مجھے رستے سے الگ کیا ہے میں بھی زمین میں لوگوں کے لیے (گناہوں) کو آراستہ کر دکھاؤں گا اور سب کو بہکاؤں گا
En
(شیطان نے) کہا کہ اے میرے رب! چونکہ تو نے مجھے گمراه کیا ہے مجھے بھی قسم ہے کہ میں بھی زمین میں ان کے لئے معاصی کو مزین کروں گا اور ان سب کو بہکاؤں گا بھی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَغْوَیْتَنِیْ لَاُزَیِّنَ٘نَّ لَهُمْ فِی الْاَرْضِ شیطان نے کہا، اے رب، جیسے تو نے مجھے گمراہ کیا ہے، میں بھی ان سب کو بہاریں دکھلاؤں گا زمین میں یعنی میں ان کے سامنے دنیا کو آراستہ کروں گا، میں ان کو اس بات پر آمادہ کروں گا کہ وہ دنیا کو آخرت پر ترجیح دیں یہاں تک کہ وہ ہر گناہ کرنے لگ جائیں گے۔ ﴿ وَلَاُغْ٘وِیَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَ اور ان سب کو بہکا دوں گا یعنی میں تمام انسانوں کو راہ راست پر چلنے سے روک دوں گا۔
﴿ اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِیْنَ مگر ان میں سے جو تیرے مخلص بندے ہیں۔ یعنی وہ لوگ جن کو تو نے ان کے اخلاص، ایمان اور توکل کی وجہ سے چن کر اپنے لیے خالص کر لیا۔ (وہ میرے جال سے بچ جائیں گے۔)
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قال ربِّ بما أغويتني لأزيِّنَنَّ لهم في الأرض}؛ أي: أزيِّن لهم الدنيا، وأدعوهم إلى إيثارها على الأخرى، حتى يكونوا منقادين لكلِّ معصيةٍ، {ولأغوِيَنَّهم أجمعين}؛ أي: أصدُّهم كلَّهم عن الصراط المستقيم، {إلاَّ عبادَك منهم المخلَصين}؛ أي: الذين أخلصتهم، واجتبيتهم لإخلاصهم وإيمانهم وتوكلهم.