تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحجر (15) — آیت 3

ذَرۡہُمۡ یَاۡکُلُوۡا وَ یَتَمَتَّعُوۡا وَ یُلۡہِہِمُ الۡاَمَلُ فَسَوۡفَ یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۳﴾
انھیں چھوڑ دے، وہ کھائیں اور فائدہ اٹھائیں اور انھیں امید غافل رکھے، پھر جلدی جان لیں گے۔ En
(اے محمد) ان کو اُن کے حال پر رہنے دو کہ کھالیں اور فائدے اُٹھالیں اور (طول) امل ان کو دنیا میں مشغول کئے رہے عنقریب ان کو (اس کا انجام) معلوم ہو جائے گا
En
آپ انہیں کھاتا، نفع اٹھاتا اور (جھوٹی) امیدوں میں مشغول ہوتا چھوڑ دیجئے یہ خود ابھی جان لیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پس ﴿ ذَرْهُمْ یَ٘اْكُلُوْا وَیَتَمَتَّعُوْا چھوڑ دیں ان کو، کھا لیں اور فائدہ اٹھا لیں اپنی لذتوں سے ﴿ وَیُلْهِهِمُ الْاَمَلُ اور امید ان کو غفلت میں ڈالے رکھے یعنی وہ دنیا میں باقی رہنے کی امید رکھتے ہیں۔ پس بقاء کی یہ امید انھیں آخرت سے غافل کر دیتی ہے ﴿ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَؔ عنقریب ان کو معلوم ہوجائے گا۔ یعنی اپنے باطل موقف کو عنقریب جان لیں گے اور ان کو معلوم ہو جائے گا کہ ان کے اعمال ان کے لیے محض خسارے کا باعث تھے۔ پس وہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی مہلت سے دھوکا نہ کھائیں۔ کیونکہ قوموں کے بارے میں یہ مہلت سنت الٰہی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فَـ {ذَرْهم يأكلوا ويتمتَّعوا}: بلذاتهم، {ويلههم الأمل}؛ أي: يؤمِّلون البقاء في الدنيا فيلهيهم عن الآخرة، {فسوف يعلمونَ}: أنَّ ما هم عليه باطلٌ، وأنَّ أعمالهم ذهبت خسراناً عليهم، ولا يغترُّوا بإمهال الله تعالى؛ فإنَّ هذه سنته في الأمم.