تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
جو کوئی اس عظیم نعمت کو ٹھکراتا ہے اور اس کا انکار کرتا ہے تو وہ گمراہ اور مکذبین میں شمار ہوتا ہے جن پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ وہ تمنا کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے یعنی انھوں نے اس کے احکام کو تسلیم کیا ہوتا اور یہ وہ وقت ہو گا جب ان کی آنکھوں پر سے پردہ ہٹ جائے گا، آخرت کی علامات اور موت کے مقدمات شروع ہو جائیں گے۔ وہ آخرت کے تمام احوال میں تمنا کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے مگر اب وقت ہاتھ سے نکل چکا ہو گا۔ یہ لوگ اس دنیا میں دھوکے میں پڑے رہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وهذا مما يوجب على الخلق الانقياد إليه والتسليم لحكمه وتلقِّيه بالقَبول والفرح والسرور، فأما من قابل هذه النعمة العظيمة بردِّها والكفر بها؛ فإنَّه من المكذِّبين الضالِّين، الذين سيأتي عليهم وقتٌ يتمنَّوْن أنهم مسلمون؛ أي: منقادون لأحكامه، وذلك حين ينكشف الغطاء وتظهرُ أوائل الآخرة ومقدِّمات الموت؛ فإنهم في أحوال الآخرة كلِّها يتمنَّون أنهم مسلمون، وقد فات وقتُ الإمكان، ولكنَّهم في هذه الدُّنيا مغترُّون.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔