تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحجر (15) — آیت 27

وَ الۡجَآنَّ خَلَقۡنٰہُ مِنۡ قَبۡلُ مِنۡ نَّارِ السَّمُوۡمِ ﴿۲۷﴾
اور جانّ (یعنی جنوں) کو اس سے پہلے لُو کی آگ سے پیدا کیا۔ En
اور جنوں کو اس سے بھی پہلے بےدھوئیں کی آگ سے پیدا کیا تھا
En
اور اس سے پہلے جنات کو ہم نے لو والی آگ سے پیدا کیا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَالْجَآنَّ اور جنوں کو۔ اس سے مراد جنوں کا باپ، یعنی ابلیس ہے ﴿ خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ پیدا کیا ہم نے اس کو پہلے یعنی تخلیق آدم علیہ السلام سے پہلے ﴿ مِنْ نَّارِ السَّمُوْمِ لو کی آگ سے یعنی نہایت سخت حرارت والی آگ سے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{والجانَّ}: وهو أبو الجنِّ؛ أي: إبليس، {خَلَقْناه من قبل}: خَلْقِ آدم، {من نار السَّموم}؛ أي: من النار الشديدة الحرارة.