تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَلَقَدْخَلَقْنَاالْاِنْسَانَ ﴾”ہم نے انسان کو پیدا کیا۔“ یعنی آدم علیہ السلام کو پیدا کیا ﴿ مِنْصَلْصَالٍمِّنْحَمَاٍمَّسْنُوْنٍ ﴾”کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے“ یعنی خمیر شدہ گارے سے پیدا کیا جس میں خشک ہونے کے بعد کھنکھناہٹ کی آواز پیدا ہو جاتی ہے۔ جیسے پکی ہوئی ٹھیکری کی آواز۔
(اَلْحَمَاِالْمَسْنُون) اس گارے کو کہتے ہیں، جس کا رنگ اور بو، طویل عرصے تک پڑا رہنے کی وجہ سے بدل گئے ہوں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ولقد خلقنا الإنسان}؛ أي: آدم عليه السلام {من صَلْصال من حَمَإٍ مسنونٍ}؛ أي: من طين قد يبس بعدما خُمِّرَ حتى صار له صَلْصَلَةٌ وصوتٌ كصوت الفخار. والحمأ المسنون: الطينُ المتغيِّر لونه وريحه من طول مكثه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔