تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحجر (15) — آیت 26

وَ لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ مِنۡ صَلۡصَالٍ مِّنۡ حَمَاٍ مَّسۡنُوۡنٍ ﴿ۚ۲۶﴾
اور بلاشبہ یقینا ہم نے انسان کو ایک بجنے والی مٹی سے پیدا کیا، جو بدبودار، سیاہ کیچڑ سے تھی۔ En
اور ہم نے انسان کو کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے پیدا کیا ہے
En
یقیناً ہم نے انسان کو کالی اور سڑی ہوئی کھنکھناتی مٹی سے، پیدا فرمایا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ ہم نے انسان کو پیدا کیا۔ یعنی آدم علیہ السلام کو پیدا کیا ﴿ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے یعنی خمیر شدہ گارے سے پیدا کیا جس میں خشک ہونے کے بعد کھنکھناہٹ کی آواز پیدا ہو جاتی ہے۔ جیسے پکی ہوئی ٹھیکری کی آواز۔
(اَلْحَمَاِ الْمَسْنُون) اس گارے کو کہتے ہیں، جس کا رنگ اور بو، طویل عرصے تک پڑا رہنے کی وجہ سے بدل گئے ہوں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ولقد خلقنا الإنسان}؛ أي: آدم عليه السلام {من صَلْصال من حَمَإٍ مسنونٍ}؛ أي: من طين قد يبس بعدما خُمِّرَ حتى صار له صَلْصَلَةٌ وصوتٌ كصوت الفخار. والحمأ المسنون: الطينُ المتغيِّر لونه وريحه من طول مكثه.